ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے، نئے صوبے کا معاملہ اب دفن ہوجانا چاہیے، مراد علی شاہ
سندھ میں تقسیم کی گنجائش نہیں، آئینی طریقہ کار ناگزیر ہے، جام چاکرو میں میڈیا سے گفتگو
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ جام چاکرو میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے اور نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی طور پر درکار اکثریت موجود نہیں ہے، اس لیے اس معاملے کو اب دفن ہوجانا چاہیے۔ جام چاکرو میں جدید لینڈ فل سائٹ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے بنانے کے لیے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مخالفین کے پاس ایک تہائی اکثریت بھی نہیں ہے، اس لیے زحمت کرنے کی ضرورت نہیں کہ صوبائی اسمبلی اس مطالبے کو دوبارہ مسترد کرے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج آئینی اقدام ہے مگر جمہوری عمل نہیں ہے، تاہم اگر کوئی صوبہ دہشتگردی کے خلاف تعاون سے انکار کر دے تو پھر حکومت کے پاس کیا راستہ بچتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چاروں صوبوں کو دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا چاہیے اور اس بحران سے نکلنے کا بہترین طریقہ مذاکرات کے ذریعے تمام امور کو طے کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جام چاکرو کے ترقیاتی منصوبے کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کو صاف کرنے کے اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 5 جدید سیل تعمیر کیے جا رہے ہیں جن کی تعمیر دسمبر تک مکمل کر لی جائے گی۔ اس جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کی بدولت شہر کے کچرے کو سائنسی اور منظم انداز میں تلف کیا جائے گا جس سے ماحولیاتی مسائل اور تعفن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے میر رضا کیس کے حوالے سے بتایا کہ اس معاملے پر کابینہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا کہا گیا تھا اور اب کابینہ ہی اس کمیشن کی رپورٹ کا بند لفافہ کھول کر حتمی فیصلہ کرے گی۔