وزیر داخلہ نے 50 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے والد کو پہنچا دیئے
باقی رقم کی جلد واپسی کی یقین دہانی، محسن نقوی، طلال چوہدری اور آئی جی گھر پہنچے
وزیر داخلہ نے 50 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے والد کو پہنچا دیئے
اسلام آباد میں ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے کا فراڈ کرنے کے معاملے میں ملزم کی ہلاکت کے بعد 50 لاکھ روپے متاثرہ خاندان کو واپس پہنچا دیئے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ مرحومہ طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر کا دورہ کیا اور ان کے والد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے لائبہ کے والد کو 50 لاکھ روپے سے زائد کی لوٹی گئی رقم واپس کی اور باقی رقم کی جلد واپسی کی بھی یقین دہانی کرائی۔
دستاویزات کے مطابق امریکی ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی لائبہ اعجاز سے 93 لاکھ روپے لیے گئے تھے، اور مقتولہ کو جعلی اسکالرشپ، یونیورسٹی کے آفر لیٹرز اور فیس کی رسیدیں فراہم کی گئی تھیں۔ شدید مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنے پر گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ نے 9 اکتوبر کو مبینہ طور پر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق لائبہ خودکشی کیس کا مرکزی ملزم نعمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ تھانہ رمنا کی حدود میں پولیس ٹیم ملزم کو نشاندہی پر برآمدگی کے لیے لے کر جا رہی تھی کہ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 نامعلوم ملزمان نے اسے چھڑوانے کے لیے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے زخمی ہوا اور اسپتال میں دم توڑ گیا۔
تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہلاک ملزم نے لائبہ کے علاوہ دیگر افراد کے ساتھ بھی فراڈ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نعمان سے 21 جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر ملے ہیں جو وزارت دفاع میں ملازمت کے نام پر جاری کیے گئے تھے، جبکہ ملزم نے اپنے 4 کزنوں کو بھی جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر دیے تھے۔ لائبہ کے والد رانا اعجاز نے وزیر داخلہ اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ریاست کے ساتھ ہونے کا احساس ملا ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔