مری میں ہوٹل منیجر پر فائرنگ کا تعلق سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی سے نکلا

مری میں بااثر ہوٹل مالک کی جانب سے فائرنگ کرکے ایک دوسرے ہوٹل کے منیجر کو زخمی کرنے کے واقعے کے اصل محرکات سامنے آگئے ہیں۔

مری کے ایمبیسڈر ہوٹل میں جواں سال منیجر آصف کو ایک اور ہوٹل کے مالک راجہ مصعب نے ہفتہ 30 دسمبر کو پستول سے اس وقت گولیاں ماردی تھیں جب آصف کاؤنٹر کے پیچھے کھڑا تھا۔ فائرنگ سے آصف شدید زخمی ہوا اور وہیں گرگیا۔

گولیاں مارنے کے یہ مناظر ہوٹل میں لگے سی سی وی کیمروں کے ذریعے ریکارڈ ہوگئے اور اس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

زخمی ہوٹل منیجر آصف کی یادگار تصویر
زخمی ہوٹل منیجر آصف کی یادگار تصویر

ابتدا میں سوشل میڈیا پر کہا گیا تھا کہ کمرے بک کرنے سے آصف کے انکار پر راجہ مصعب نے اسے گولیاں ماری۔

تاہم اب واقعے کے دیگر حقائق سامنے آرہے ہیں اور اس کا تعلق سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی کے معاملے سے نکلا ہے۔

جس ہوٹل کے منیجر کو گولیاں ماری گئیں اس کے مالک حافظ جاوید ہیں۔

معلوم ہواہے کہ راجہ خلیل اور حافظ جاوید کا پہلے سے تنا زع چل رہا تھا۔ عام انتخابات کے دوران بھی دونوں میں جھگڑا ہوا تھا۔

گھوڑا گلی تاجر یونین کے ایک عہدیدار  نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’’امت‘‘ کو بتایا کہ راجہ معصب خلیل کی جانب سے مری آنے والے سیاحوں سے بدتمیزی اور سوشل میڈیا پر وڈیو وائرل ہونے کے بعد یونین کی میٹنگ میں حافظ جاوید کی طرف سے راجہ معصب کو روکنے پر تنا زعہ بنا جس پر فریقین کے جھگڑے کے باعث ہوٹل یونین بھی ختم کر دی گئی تھی۔

ایمبیسڈر ہوٹل کے ملازم شاہد کا کہنا تھا کہ راجہ مصعب نشے کی حالت میں تھا، ہوٹل میں داخل ہو تے ہی حا فظ جاوید کو للکارتے ہو ئے گالیاں دینے لگا جس پر آصف نے گالیاں دینے سے منع کیا تو معصب نے پستول نکال کر آصف پر فا ئرنگ کر دی۔

کمروں کی بکنگ کا تنازعہ نہیں

ہوٹل کے مالک حافظ جاوید اختر کا کہنا تھا محمد آصف تشویش ناک حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہم ملزم کی گرفتاری اور اسے اس درندگی کی سزا دلانے کے لئے ہر حد تک جائیں گے ،ایسے افراد کی بد معاشیوں کی وجہ سے مری کی شہرت داغ دار ہوئی ہے ،اس نے ہمارے ہوٹل میں بے گناہ نوجوان کو گولیاں مار کر درندگی کی انتہا کی ہے ،ہم اسے معاف نہیں کریں گے ،اعلیٰ حکام غنڈہ گردی کے اس بدترین واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم راجہ مصعب خلیل کو فوری گرفتار کرائیں‘‘

تاجر یونین کے عہدیدار کے مطابق کمروں کی بکنگ کے تنازعے والی بات میں صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’راجہ معصب کو کمروں کی کیا ضرورت تھی۔ راجہ معصب کے اہنے ہوٹل بھی مری میں مو جود ہیں۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ راجہ مصعب یو نین کونسل گھوڑا گلی کے چئیرمین راجہ خلیل کا بیٹا ہے اور سوات میں راجہ خلیل کے ہوٹل پر ہی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ مری آتا ہے۔

آصف کی شادی ہونیوالی تھی

زخمی آ صف کے والد مقبول عباسی  نے امت سے گفتگو میں کہا کہ ’’میرے بیٹے کو راجہ خلیل کے بیٹے راجہ مصعب نے ما را ہے جس کے خلاف تھا نے میں تحریری درخوا ست بھی دی تاہم پولیس اہلکار بے گنا ہ شہریوں کے پکڑنے میں مصروف ہے۔ ہمیں اصل مجرم چاہیئے۔ راجہ خلیل اثر و رسوخ رکھنے والا ہے جس وجہ سے پولیس اس کے بیٹے کو گرفتار نہیں کر رہی ہے۔‘‘

فا ئرنگ سے زخمی ہونے والی آ صف کی مارچ میں شادی ہونے والی تھی جس کی تمام تیا ریاں مکمل ہو چکی تھی۔  مقبول عباسی نے بتایا کہ  آصف 6 بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہے، اس کے بڑے دونوں بھائی شادی شدہ ہیں اور دبئی میں مزدوری کر تے ہیں۔ آصف کا چھو ٹا بھائی سیف الرحمن ڈرائیور ہے جبکہ با قی دو نوں بھائی چھوٹے ہیں اور اسکول جاتے ہیں۔

تین ملزمان گرفتار

آصف کوپانچ گولیاں ماری گئیں جن میں سے ایک گلے میں لگی جس کے باعث مضروب کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔

تھانہ مری کی پولیس کا کہنا ہے کہ حافظ جاوید کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے جبکہ تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے جلد مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

پولیس نے کہا کہ آصف کے ہوش میں آنے اور بیان دینے پر ہی جھگڑے کی اصل وجوہات سامنے آئیں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.