مکہ میں مسجد الحرام پر لاکھوں کاکروچز کے حملے کی حقیقت

مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے صحن میں لاکھوں کاکروچ نما مردہ کیڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز نے پاکستان سمیت اسلامی ممالک میں لوگوں کو پریشان کردیا ہے۔

سبب یہ ہے کہ یہ تصاویر اس کیپشن کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں کہ مکہ میں کاکروچوں نے حملہ کردیا۔ کچھ تصاویر کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مدینہ منورہ میں بھی اسی طرح کاکروچز نے حملہ کیا ہے۔

تصاویر اور ویڈیوز میں مسجد الحرام کے احاطے میں سیاہ رنگ کے مردہ کاکروچ نما کیڑوں کے ڈھیر لگے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ تصاویر کئی روز سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ پہلے انہیں عرب ممالک میں پھیلایا گیا جس کے بعد یہ پاکستان بھی پہنچ گئیں۔

کاکروچ نہیں جداجد

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مکہ مکرمہ کے سیکریٹریٹ نے ان تصاویر اور ویڈیوز پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

بیان کے مطابق جس مردہ کیڑے کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں وہ کاکروچ یا لال بیگ نہیں بلکہ اس سے ملتا جلتا جاندار ہے جسے عربی میں ’’جداجد‘‘ کہا جاتا ہے۔

مسجد الحرام کے احاطے میں مردہ کیڑوں کے ڈھیر لگ گئے

مسجد الحرام کے احاطے میں مردہ کیڑوں کے ڈھیر لگ گئےوکی پیڈیا پر دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ جداجد جسے انگریزی میں گرائی لوئیڈا کہتے ہیں کی کم ازکم تین اقسام ہیں۔

مکہ سیکریٹریٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کیڑوں کے خاتمے کیلئے 138 افراد پر مشتمل 22 ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جنہوں ںے 11 ڈیوائسز کے ذریعے ان کا خاتمہ کیا۔

ان کیڑوں نے مسجد الحرام پر حملہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ مسجد الحرام اور اس کے اطراف میں مختلف نکاسی کے نالوں اور پائپوں میں موجود تھے جنہیں اسپرے مار کر تلف کیا گیا۔

عرب اخبار الخلیج آن لائن نے مکہ سیکریٹریٹ کا وضاحتی بیان جاری کرنے کے ساتھ ایک تصاویر بھی شائع کی جس میں صفائی کرنے والے کارکنوں کو مسجد الحرام کے قریب نالوں میں اسپرے کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جو تصاویر پھیلیں وہ کیڑے مار ادویات پھینکنے کے بعد مردہ کیڑوں کو صاف کرنے کی ہیں۔

مکہ میں مسجد الحرام کے باہر نالوں میں اسپرے کرتے کارکن۔ اسپرے کے بعد کیڑے نکل کر پھیل گئے
مکہ میں مسجد الحرام کے باہر نالوں میں اسپرے کرتے کارکن۔ اسپرے کے بعد کیڑے نکل کر پھیل گئے

اسپرے کے نتیجے میں کئی زندہ کیڑے بھی اپنی پناہ گاہوں سے مسجد الحرام کے احاطے میں پھیل گئے تھے۔ صحن کے علاوہ یہ دیواروں پر بھی چڑھ گئے۔ جبکہ بعض قریبی عمارتوں میں گھسے۔ اس کے علاوہ اڑتے بھی دکھائی دیئے۔

تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض ویڈیوز میں ان کیڑوں کے قریب سے عمرہ زائرین کو بغیر کسی تشویش کے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

عرب دنیا میں تشویش

مکہ سیکریٹریٹ کی اس وضاحت سے پہلے عرب ممالک میں بالخصوص بڑی تعداد میں لوگوں نے مسجد الحرام پر کیڑوں کے ’’حملے‘‘ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے ان کیڑوں کو ٹڈی قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والے کئی پیغامات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ کاکروچز کے حملے کے نتیجے میں مسجد الحرام میں عشا کی جماعت بھی ملتوی ہوگئی۔ تاہم حقیت میں مکہ سیکریٹریٹ کا کیڑے مار آپریشن رات کے دوران کیا گیا تھا جس کے بعد مسجد کا صحن اور دیگر حصے صاف کردیئے گئے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.