چڑیا گھر میں جانور آزاد- انسان پنجرے میں بند

چائینہ نے جانوروں کو قید کئے بغیرانہیں انسانوں کے قریب لانے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔

چائینہ میں واقعہ لیھی لیڈو وائلڈ لائف زو میں جانوروں کو آزاد رکھا گیا ہے جبکہ جانوروں کو دیکھنے آئے لوگوں کو پنجرے میں بند کردیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے لوگوں کو جنگلی جانوروں کو دنیا کے باقی زو کی طرح چھوٹے پنجرے میں قید دیکھ کر مایوس ہونے کے بجائےان کے قریب آنے کا موقع ملتا ہے۔

زو کی جانب سے لوگوں کے لئے جانوروں کوان کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ان کے پنجروں کے باہر گوشت کے ٹکڑے ٹانگ دئے جاتے ہیں، جبکہ اس وقت لوگ پنجروں کے اندر ان جنگلی جانوروں سے محفوظ ہوتے ہیں، جبکہ پنجرے کے اوپر چھوٹی خلائیں بھی رکھی گئی ہیں جس کے ذریعے لوگ جانوروں کو کھانا دے سکتے ہیں۔

زو کی حکام چھن للانگ نے کہا کہ ’ہم ہمارے زو میں گھومنے آئے لوگوں میں سنسنی پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے اور ان پر جنگلی جانوروں کے حملے بھی، لیکن ظاہر ہے بغیر کسی خطرے کےـ‘

 

چھن للانگ کے مطابق تمام لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ تمام وقت اپنی انگلیاں اور ہاتھ پنجرے کے اندر رکھیں کیونکہ ایک بھوکا شیر ان کے اور اپنے ناشتے کے درمیان فرق نہیں جانتا ہوگا۔

چڑیا گھر گھومنے آئے ایک شخص کے مطابق ’میں نے اس سے پہلے کبھی چڑیا گھر میں ایسا تجربہ نہیں کیا، ہم ان کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے، بلکہ ہو ہماری طرف دیکھ رہے تھے- اور ہم کھانا تھے‘۔

لیکن ٹائیگر اور شیروں کے پنجرے پر چھلانگ لگاتے ہوئے سانس روک لینے والی تصویریں آنے کے بعد لوگوں کی جانب سے اس چڑیا گھر پر کافی تنقید بھی کی گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو جنگلی جانوروں کے اتنا قریب لے جانا کافی خطرناک ہوسکتا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق کچھ لوگوں کی جانب سے پارک کی اس غیر معمولی خاصیت کو ’ایک حادثہ جو کے ہونے کا انتظار کررہا ہے‘ کہا گیا ہے۔

لیکن ان سب خطروں کےباوجود بھی یہ چڑیا گھر بہت مقبول ہوا ہے۔ یہاں تک کہ جب 2015 میں اس چڑیا گھر کا افتتاح کیا گیا تو اس کی ایک ساتھ تین ماہ کی ٹکٹیں فروخت ہوگئی تھیں۔ جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ لوگ جانوروں کے آزاد گھومنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں بجائے اس کے کہ انہیں پنجروں میں بند رکھا جائے۔

تبصرے بند ہیں.