افغان شہری کی بہادری۔دہشگرد کو گرفتار کرانے میں مدد دی

کرائسٹ چرچ میں ایک افغان شہری عبدالعزیز نے بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سمجھداری کے ساتھ  دہشت گرد کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے مزید لوگوں کو شہید کرنے سے روک لیا جس کے بعد پولیس نے اس درندے کو گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق جس وقت دہشتگر د ہندوق تھامے مسجد کی جانب بڑھ رہا تھا تو وہ اپنے راستے میں آنے والے ہر شخص کو گولیاں مارتا چلا جارہا تھا تاہم اس دوران عبدالعزیز نامی شخص نے چھپنا مناسب نہیں سمجھا اور بہادری کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ۔

عبدالعزیز نے فوری طور پر اسٹورمیں سے ایک کریڈٹ کارڈ مشین اٹھائی اور باہر کی طرف بھاگا اور چلانے لگا کہ ” ادھر آﺅ ادھر آو “اور اس طرح عبدالعزیز دہشتگرد کا دھیان اپنی طرف دلوانے میں کامیاب ہوا ۔

عبدالعزیز کو نیوزی لینڈ میں ہیرو کا درجہ دیا جارہاہے کیونکہ انہوں نے اپنی سمجھداری اور بہادری کے ذریعے دہشتگردکو خوفزدہ کر مزید شہادتوں سے روک لیا۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت عبدالعزیز کے چار بیٹے اور دیگر درجنوں افراد مسجد میں موجود تھے اور اس وقت یہ شخص دہشتگرد کا دھیان بٹانے کی کوشش میں لگا تھا ۔

لین ووڈ مسجد کے قائم مقام امام لطیف الابی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ” میں سمجھتاہوں کہ اگر وہاں پرعبدالعزیز نہیں ہوتا تو ممکنہ طور پر لین ووڈ مسجد میں بھی شہادتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ۔“

انہوں نے بتایا کہ ایک بج کر 55 منٹ پر جمعہ کی نماز پڑھا رہا تھا کہ اس دوران مسجد کے باہر سے کچھ آوازیں سنی تو میں نے نماز روکی اور کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں ایک شخص ملٹری کا لباس پہنے اور بندو ق اٹھائے چلا آ رہا تھا میں سمجھا کہ کوئی پولیس افسر ہے لیکن پھر میں نے باہر پڑی دو لاشیں دیکھیں اور اس کو چلاتے ہوئے سنا جس کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی قاتل ہے ۔

امام مسجد نے کہا کہ میں نے اسی وقت وہاں موجود تقریبا 80 لوگوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر نیچے جھک جائیں ، وہ ہچکچائے لیکن جب گولی چلی اور وہ کھڑی سے ہوتی اندر آ کر لگی اور کچھ لوگ نیچے گرے تو لوگوں کو یقین ہوا یہ حقیقت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اسی وقت بھائی عبدالعزیز دہشتگرد کے پیچھے آ گئے اور انہوں نے اس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی اور یہی ایک وجہ ہے جس کے باعث ہم زندہ بچ سکے ہیں بصورت دیگر اگر وہ دہشتگرد مسجد میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو شہادتیں بہت زیادہ ہوتیں۔

عبدالعزیز نے کہا کہ حملہ آور اپنی گاڑی کی جانب دوسری بندوق لینے دوڑا اور میں نے کریڈٹ کارڈ کی مشین اس کی طرف طاقت سے ماری ۔

ان کا کہناتھا کہ میرے پانچ سالہ اور 11 سالے بیٹے مجھے آوازیں دے رہے تھے کہ اندر آ جائیں ۔

عبدالعزیز نے بتایا کہ حملہ آور واپس آیا اور اس نے فائرنگ شروع کر دی اور میں کارپاکنگ کی جانب بھا گا اور گاڑیوں کے پیچھے سے ہوتا ہوا بھاگتا رہا تاکہ دہشتگرد کو گولی چلانے کیلیے صاف راستہ نہ مل سکے اور اسی دوران مجھے دہشتگرد کی جانب سے پھینکی گئی بندوق مل گئی ،میں نے وہ اٹھائی اور اسے حملہ آور کی جانب تانا لیکن وہ خالی تھی ۔

 

عبدالعزیز نے کہا کہ حملہ آور ایک مرتبہ پھر سے بندوق اٹھانے اپنی گاڑی کی طرف دوڑا ، وہ اپنی گاڑی پر پہنچا اوراسی وقت میں نے ہاتھ میں پکڑی بندوق اس کی گاڑی کی ونڈ اسکرین پر زور سے ماری جس کے باعث وہ ٹوٹ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ  یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث دہشتگرد خوفزدہ ہو گیا جسے پھر پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

تبصرے بند ہیں.