’سلیکٹڈ‘ غیر پارلیمانی لفظ نہیں،بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیا پاکستان سنسرڈ، ارکان اسمبلی بول ہی نہیں سکتے، یہ کیسی آزادی ہے؟ یہ تاریخ کی بدترین سنسرشپ ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سنا ہے میری غیر موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر نے ’سلیکٹڈ‘ لفظ پر پابندی عائد کر دی ہے، ’سلیکٹڈ‘ لفظ غیر پارلیمانی لفظ نہیں لیکن آپ کی مرضی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سلیکٹڈ‘ غیر پارلیمانی لفظ نہیں، پابندی وزیراعظم کی انا کا مسئلہ ہے، حکومتی فیصلے آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ وزیراعظم نے ’سلیکٹڈ‘ کہنے پر ڈیسک بجائے اور ایک سال بعد اسی لفظ پر پابندی لگا دی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہر پاکستانی اس حکومت کی نالائقی کی قیمت چکا رہا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری کم ہو چکی ہے۔ ہسپتالوں کے فنڈز روک کر ہزاروں شہریوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ صوبوں کو ان کے حق کے مطابق پیسے نہیں دیے گئے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ کس قسم کی آزادی ہے کہ ممبران اسمبلی بول بھی نہیں سکتے، دوسری جانب حکومت کا کوئی لفظ حذف نہیں کیا جا سکتا۔ اگر’سلیکٹڈ‘ لفظ پر شک ہے تو پارلیمانی کمیشن کیوں بنایا گیا، الیکشن میں دھاندلی پر کمیٹی کیوں بنائی گئی۔

حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو غریب پانچ لاکھ مشکل سے اکٹھا کرتا ہے، اب اسے بھی حساب دینا ہوگا،حکومت دوغلی پالیسی بند کرتے ہوئے عوام دشمن بجٹ واپس لے۔

انہوں نے کہا کہ خوف کے ذریعے ٹیکس اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔ نیب گردی سے حکومت معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ نیب گردی اور حکومت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے روزگار کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ روزگار دینے کے بجائے نوکریاں چھینی جا رہی ہیں۔ پچاس لاکھ گھر کا وعدہ کیا لیکن لوگوں سے روزگار چھین لیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.