ٹرمپ سے ایٹمی ہتھیاروں کا کنٹرول چھین لیا گیا

رپورٹ:احمد نجیب زادے
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدور اور سینیٹ اراکین کی سفارشات پر ڈونالڈ ٹرمپ سے ایٹمی حملوں کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے۔

’’شکاگو ٹریبون‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درجنوں اراکین کانگریس، سابق صدور اور سینیٹ اسپیکر نینسی پیلوسی نے دو روز قبل ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ بد دماغ اور ناقابل اعتبار انسان ہیں اور وہ بیس جنوری کو نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے قبل کسی بھی ملک پر ایٹمی حملہ کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ان کے پاس صدارتی اختیار کے تحت ایٹمی وار ہیڈز کا کوڈ رکھنے والا بریف کیس ’’فٹ بال‘‘ موجود ہے۔ جس کی مدد سے وہ کسی بھی ملک پر ایٹمی حملہ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2017ء میں بھی دو کانگریس ڈیموکریٹس اراکین نے ٹرمپ کو ناقابل بھروسا قرار دے کر ان سے ایٹمی حملوں کا اختیار واپس لینے کی تحریک قرارداد کی شکل میں ایوان میں پیش کی تھی۔ عالمی جریدے ’’پولی ٹیکو‘‘ کے مطابق سابق امریکی صدور بارک اوباما، جارج بش جونیئراوربل کلنٹن نے پنٹاگون اور سینئر ملٹری افسران سے رابطوں میں مطالبہ کیا کہ کیپٹل ہل پر حملوں اور غیر مستحکم منظر نامہ میں ڈونالڈ ٹرمپ ناقابل اعتبار ثابت ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ان سے ایٹمی حملوں کے استعمال کا اختیار اور کوڈز واپس لے لینے چاہئیں۔ کیوںکہ وہ اپنی صدارت سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے آخری ایام میں کوئی بھی بھیانک اقدام اٹھا سکتے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق پنٹاگون کے سینئر حکام نے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کو ٹیلی فون کرکے یقین دہانی کروائی ہے کہ ایسے اقدامات اٹھا چکے ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی حملوں کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔ ایٹمی حملوں کیلیے کمانڈ کا استعمال بھی اب ممکن نہیں ہے۔ جوائنٹ چیفس جنرل مائیک ملر نے اسپیکر نینسی پیلوسی کو فون کال پر ان کے خدشات کے جوابات دے کر مطمئن کیا کہ ایٹمی حملوں کے اختیار اور غلط استعمال کے حوالے سے وہ اب بے فکر رہیں۔

امریکا کے سابق سکریٹری آف ڈیفنس اور دفاعی تجزیہ نگار ولیم جے پیری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے خود کو انتہائی منتقم مزاج اورغیر متوازن شخصیت کا حامل ثابت کردیا ہے۔ ایسے میں ان کے پاس ایٹمی حملوں کا اختیار رہنا پوری قوم کیلئے تشویش ناک ہے۔ ولیم پیری کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایسا کرسکتے ہیں، ان سے کچھ بعید نہیں۔ ماضی میں ٹرمپ نے ٹوئٹرز پر شمالی کوریا کو ایٹمی حملے کی دھمکی دی تھی۔ اس لیے پنٹاگون کو یا تو ایٹمی حملوں کے کوڈز والا بریف کیس ٹرمپ سے واپس چھین لینا چاہئے، یا اس کے کوڈز کو جو بائیڈن کی صدارت کے آغاز تک معطل کردیا جانا چاہیے تاکہ سر پھرے ٹرمپ چاہ کر بھی کوئی بھیانک اقدام نہ اٹھا سکیں۔ ولیم پیری کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی جنگ چھیڑنے کیلیے امریکی صدر کو لا محدود اختیارات حاصل ہیں۔ اس کو اس بات کا کامل اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر ایٹمی ہتھیار چلا سکتا ہے۔

ادھر برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ نینسی پیلوسی کی کال کے جواب میں ان کو جوائنٹ چیف چیئرمین جنرل مائیک ملر نے مطمئن کیا ہے کہ اب ٹرمپ کو ایٹمی ہتھیار متحرک کرنے کا کوئی اختیار نہیں رہا ہے۔ تاہ جنرل مائک ملر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے کن خطوط پر کام کرکے صدر ٹرمپ کو ایٹمی حملوں کے حوالے سے بے اختیار کیا ہے؟

امریکی تجزیہ نگار مائیک ہوری کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت زیادہ خطرناک ہیں اور وہ سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کو الیکشن ناکامی کے بعد برطرف کرچکے ہیں۔ اس فیصلے نے صدر ٹرمپ کیلئے کسی کے مشورے یا پیشگی اطلاع دیے بغیر اپنی مرضی سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے درمیان اہم رکاوٹ دور کردی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ایٹمی ہتھیار چلانے سے پہلے اپنے سیکریٹری دفاع سے مشاورت کا پابند ہے۔ لیکن اگر وزیرِ دفاع اعتراض کرتا ہے تو بھی صدر اس اعتراض کو مسترد کر سکتا ہے۔ اب چوں کہ مارک ایسپر کو فارغ کیا جاچکا ہے تو نائب صدر مائیک پینس ہی وہ شخصیت ہیں جو صدر کو بالواسطہ طور پر عہدے سے ہٹا کر ایٹمی حملے سے باز رکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی کے سینئر رکن مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایٹمی خفیہ کوڈز پر مکمل اختیار کے معاملے میں ٹرمپ پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ ایک سرپھرے شخص ہیں۔

متعدد امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کسی بھی وقت جذبات سے مغلوب ہوکر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کام کے لیے انہیں کسی سے مشورے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ماضی میں خود کو عقلِ کُل قرار دے چکے ہیں۔ لیکن ان کی بھتیجی، بہن اور سابق اہلیہ ان کو بے وقوف، منتقم مزاج اور سر پھرا کہتی ہیں۔ اس بات کی تصدیق کیپٹل ہل حملوں کے نتیجہ میں ہو رہی ہے۔ سابق امریکی صدور، عسکری عہدیداروں سمیت میڈیا نے بھی ٹرمپ کو ناقابل ا عتبار اور متلون مزاج انسان قرار دیا ہے، جو اپنی بات کو درست ثابت کرنے کیلیے کچھ بھی کرسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.