افغان جنگ کے دوران 30 ہزار امریکی فوجیوں نے خودکشی کی

وجیہ احمد صدیقی:
امریکہ کی قدیم برائون یونیورسٹی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2001ء سے 2021ء تک افغان جنگ کے دوران 30 ہزار 177 امریکی فوجیوں نے خودکشی کی۔ مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 2 ہزار 442 اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 20 ہزار 666 ہے۔ اس میں بلیک واٹر جیسے پرائیویٹ امریکی کنٹریکٹرز کی 3 ہزار 800 لاشیں شامل نہیں۔

پنٹا گون نے ان کی موت کو ظاہر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ نیٹو کی 40 اقوام کے ایک ہزار 144 فوجی بھی مارے گئے۔ جن کا ذکر نہیں۔ جبکہ امریکیوں نے اس جنگ میں 70 ہزار کے قریب افغان فوجیوں کو مروایا۔ اس جنگ کے نتیجے میں 47 ہزار 245 افغان شہری شہید ہوئے۔ (ان میں طالبان اور دیگر مجاہدین کی شہادتوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا)۔ 27 لاکھ مزید افغان شہری پاکستان، ایران اور یورپ میں پناہ گزین ہوئے۔ 40 لاکھ اپنے ہی وطن میں دربدر ہوگئے۔ برائون یونیورسٹی اس جنگ پر اخراجات کا تخمینہ 2 کھرب 26 ارب ڈالر لگاتی ہے۔ جبکہ امریکی محکمہ دفاع کی 2020ء کی رپورٹ کے مطابق 2001ء سے 2019ء تک 8 کھرب 15 ارب 70 کروڑ ڈالر اس جنگ کی نذر ہو چکے ہیں۔ ان میں فوجیوں کا کھانا پینا، ایندھن، ہتھیاروں کے اخراجات وغیرہ سب شامل ہیں۔

2002ء سے افغانستان کی تعمیر نو کے نام پر ایک کھرب 43 ارب ڈالر امریکی خزانے سے حاصل کیے گئے۔ 88 ارب ڈالر افغان فوج اور پولیس کی تربیت پر خرچ کیے گئے۔ اس میں ان کے ہتھیار اور آلات شامل ہیں۔ 36 ارب ڈالر تعمیر نو کے نام پر خرچ ہوئے۔ ان میں تعلیم، ڈیمز اور ہائی ویز کی تعمیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ 4 ارب 10 کروڑ ڈالر مہاجرین اورآفات سماوی پر خرچ کیے گئے۔ منشیات کی فروخت کی روک تھا م کے لیے 9 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ امریکہ نے افغان جنگ کے لیے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا اور اس قرض کے سود کے لیے اب تک 5 کھرب 30 ارب ڈالر کی ادائیگی کرچکا ہے۔ اس جنگ میں لڑنے والے سابق امریکی فوجیوں کی پنشن پر بھی 2 کھرب 96 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور ان فوجیوں کی پنشن میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اخراجات افغان جنگ میں ہی شامل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انفرا اسٹرکچر کے نام پر، پرتعیش عمارتیں بنائی گئیں۔ نہریں، ڈیمز اور ہائی ویز کا کہیں پتہ نہیں۔ افغانستان میں امریکی امداد کہاں گئی کچھ علم نہیں۔ نو تعمیر شدہ اسپتال اور اسکولوں کی عمارتیں خالی پڑی ہیں۔ کائونٹر نارکوٹکس مہم کے باوجود اس دوران افیون کی پیداوار اور ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ افغان سیکورٹی فورسز کو اربوں ڈالر کے ہتھیار اور ٹریننگ کے باوجود طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے باوجود بے روزگاری کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق غربت کی شرح 2020ء میں 47 فیصد ہوگئی ہے۔ جبکہ 2007ء میں یہ شرح 36 فیصد تھی۔ واشنگٹن میں قائم سنچری فائونڈیشن کی سینئر فیلو مشل واحد حنہ نے کہا کہ ’’ہم نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی اور بہت کم حاصل کیا ہے‘‘۔ برائون یونیورسٹی کے ایک ریسرچ پیپر کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے 2001ء میں بڑے جوش کے ساتھ آپریشن اینڈیورنگ فریڈم (آپریشن پائیدارآزادی) شروع کیا تھا۔ جس کا مقصد القاعدہ کے تمام ارکان کو پکڑنام مارنا اور طالبان حکومت کو ختم کرنا تھا کہ اس نے القاعدہ کے اراکین کو پناہ دی تھی۔ القاعدہ پر الزام لگایا گیا کہ اس نے 11 ستمبر 2001ء میں نیویارک کے ٹوئن ٹاورز اور پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع) پر حملہ کیا۔ اس کا انتقام لینے کے لیے افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے نیٹو (نارتھ ایٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) اور ایساف (انٹر نیشنل اسسٹنس فورس) بنائی گئی۔ ایک لاکھ امریکی اور 41 ہزار 893 اتحادیوں کی فوج میدان میں اتاری۔ لیکن 20 سال گزرنے کے بعد امریکہ اور اس کے 40 اتحادیوں نے کچھ حاصل نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تعینات رہنے والے امریکی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان گزشتہ 20 سال میں بڑھتا جا رہا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں مختلف آپریشنز میں7 ہزار 57 افراد مارے گئے ہیں۔ جبکہ 30 ہزار 177 فوجیوں نے خودکشی کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کی شرح میں اضافے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک تو امریکی معاشرے میں پہلے ہی خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ نے اس میں اضافہ کیا ہے۔ فوجی مسلسل جنگ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ اپنے عزیزوں سے دور ان کی ذہنی حالت نارمل نہیں ہوتی۔ جنگ میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں دماغ کے حصوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ جس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہونے کے علاوہ نفسیاتی امراض بھی لاحق ہوتے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں خودکشی کرنے والے 24 فیصد فوجی ایسے ہیں۔ جن کی بیویوں نے انہیں طلاق دے دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کے رجحان میں اس بڑھتی شرح کی ذمہ دار امریکی حکومت اور امریکی معاشرہ ہے۔ جس نے یہ جنگ چھیڑی اور اس کے نتیجے میں ذہنی و نفسیاتی بیماریاں خریدیں۔

ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ افغانستان میں جنگ پر جانے والے 60 فیصد فوجی یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کس مقصد کے لیے افغانستان آئے ہیں۔ انہیں یہ بھی یقین نہیں تھا کہ وہ کامیاب بھی ہوں گے یا نہیں۔ ان جنگوں کا نتیجہ ہے کہ 60 فیصد امریکی ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے مخالف ہیں۔

تبصرے بند ہیں.