سیلفیوں سےحرمین کا تقدس پامال

سعودی حکام نے بتایا ہے کہ حرمین شریفین میں زائرین حج و عمرہ کی جانب سے سیلفی لینے کا رجحان شدت اختیار کر رہا ہے جس سے نا صرف دیگر زائرین کی عبادات اور طواف کے ارتکاز میں شدید خلل پڑ رہا ہے، وہیں حرمین کا تقدس بھی پامال ہورہا ہے۔ حرم شریف میں تازہ واقعات میں خواتین و مرد اداکاروں، سوشل میڈیا اسٹارز، کھلاڑیوں، سیاسی رہنمائوں سمیت دیگر کاروبار حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنی پروموشن کیلیے بھی حرم مکیہ جیسے مقدس ترین مقام کا استعمال شروع کردیا ہے۔ کئی کیسوں میں مانیٹر کیا گیاہے کہ حرم مکیہ شریف میں بعض لوگ سیاسی نعرے اور مخالفانہ باتیں گتے پر لکھ کراس کی ویڈیوزاورتصاویر شیئر کرتے ہیں۔ جبکہ کئی جوڑے سیلفیاں لے کر فخر کا اظہاربھی کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک واقعہ میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک حاجی نے تو دوران حج ، جمرات میں شیطان کو کنکریاں رسید کرنے کی بھی ویڈیواورسیلفی بنا کر اپلوڈ کردی تھی۔

تازہ واقعہ میں ایک مصری اداکارہ نا صرف عمرہ ادا کرنے مکہ میں کعبہ مشرفہ جا پہنچیں۔ بلکہ حرم مکی میں اپنے نئے ڈرامے کی پروموشنل ویڈیوبھی بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی، جس پر مصر بھر میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی اور روجانہ نامی اس اداکارہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ دو برس سے کورونا منظر نامہ میں سعودی اتھارٹیز نے حرمین شریفین میں سیلفیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ لیکن اب سیلفی کی بیماری دوبارہ عود کرآئی ہے۔

ادھر سعودی علما نے اس افسوس ناک رجحان پراظہارِتشویش کیا ہے۔ جبکہ مصر سمیت عالمی اسلام کے تمام فتاویٰ مراکز نے حرم مکیہ اور حرم مدنی میں سیلفی کی مخالفت میں فتاویٰ دیئے ہیں اورزائرین کو ہدایات کی ہیں کہ وہ ذاتی پروموشن سمیت کسی بھی مقصد کیلئے ان مقدس مقامات پرسیلیفیاں ہرگز مت لیں۔ جس سے نا صرف ان کی اپنی عبادات کا ذوق و شوق غارت ہوجاتا ہے بلکہ دیگر زائرین کی عبادات و یکسوئی میں فرق آتا ہے۔ لیکن تا حال اس ضمن میں سیلفی کے مرض میں کوئی افاقہ نہیں ہوا ہے۔

سعودی تجزیہ نگارا حمد الحربی نے بتایا ہے کہ رواں سال اختتام پذیر ہوئے مبارک ماہ رمضان الکریم میں زائرین کے سیلفی رجحان میں کچھ زیادہ ہی اضافہ نے علمائے کرام سمیت سعودی اتھارٹیز اور میڈیا کو بھی اس معاملہ پر تبصرے پرمجبور کردیا ہے کہ حج یا عمرہ کی زیارات اور عبادات بے ریا ئی کا مظہر ہونی چاہئیں۔ لیکن بیشتر زائرین اس سلسلہ میں احادیث اور اسلامی احکامات کو نظر انداز کررہے ہیں اور مقدس مقامات پر سیلفیاں لینے، ویڈیوز بنانے اور لائیو ویڈیو کالز میں مشغول دکھائی دیتے ہیں، جس سے دیگر زائرین کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مطاف سمیت صفا و مروہ اور حرم کے احاطہ میں ان کا دیگر زائرین کیساتھ زبانی جھگڑا بھی رپورٹ ہوا ہے۔

کئی سعودی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت حرم مکیہ میں سیلفیوں پر قابو پانے کیلیے ایک حکومت عملی مرتب اور بعد ازاں لاگو کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی دیتی ہے جس میں موبائل فونز کے استعمال سمیت اس کی ٹیکنالوجی و سگنلز کو جام کردینے کی صلاح بھی شامل ہے۔ خلیجی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حرم مکیہ میں زائرین کی بالخصوص کوشش ہوتی ہے کہ وہ مطاف میں خانہ کعبہ کے قریب ہوکر سیلفی لیں یا اپنے گھر والوں اور دوستوں کیساتھ لائیو ویڈیو کالز کریں ۔

مصری جریدے ’’الاہرام‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مصری ایکٹریس روجینا نے حال ہی میں سوشل سائیٹس پر خانہ کعبہ مشرفہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے نئے ڈراما کی پروموشنل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی نئی رمضان سیریز کی شوٹنگ حرم مکی کے اندرکرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے اس بیان کو بیت اللہ کا تقدس پامال کرنے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دیکر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر پوسٹ شدہ تصویر میں روجانا کو اپنا اسمارٹ فون لیے دیکھا جاسکتا ہے جس میں اس نے اپنی اگلی ڈراما سیریز کیلیے پوسٹرآویزاں کیا ہوا ہے اور صارفین کو نئی ڈراما سیریل دیکھنے کیلیے شوق دلایا جارہا ہے۔

عرب اور مصری سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ روجینا کے اس اقدام کا مقصد اپنے ڈرامے اور اداکاری کو فروغ دینا ہے۔ عالمی صارفین نے اپنے پیغامات میں لکھا ہے کہ حرم مکیہ شریف مقدس ترین عبادت گاہ ہے۔ آپ جیسے لوگ کعبہ مشرفہ میں بھی اپنے فن کی تشہیر کررہے ہیں۔سعودی اتھارٹیز کو اس سلسلہ میں فوری ایکشن لینا چاہیئے۔ ایک اور خاتون صارف منتہی نے لکھا کہ زائرین فراموش کر رہے ہیں کہ وہ حرم میں موجود ہیں۔ وہ فوٹو گرافی، ذاتی پروجیکشن اور دنیا دکھاوے میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

حرم میں تعینات ایک سیکیورٹی افسرنے تسلیم کیا کہ میں نے سیلفی کا نیا رجحان دیکھا ہے یہاں آنیوالے اکثرزائرین کو حرم مکیہ کی حرمت و تعظیم کا کوئی خیال نہیں۔ کچھ عرصہ قبل مسجد الحرام کی سیکورٹی فورس افسربدرنے بھی کہا کہ اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ زائرین شاید حرمین شریفین میں پکنک منانے کیلیے آئے ہوئے ہیں۔ یہ بھی مانیٹر کیا گیا ہے کہ کئی زائرین مناسک و عبادات چھوڑ اپنے پسندیدہ معروف اداکاروں اور سیاسی رہنمائوں کیساتھ سیلفی لینا فرض سمجھتے ہیں۔

کئی میڈیا پورٹلز کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خانہ کعبہ کی طواف گاہ، مقام ابراہیم، صفا و مروہ کی سعی جیسے اہم اور پر ہجوم مقامات پر سیلفیاں لی جارہی ہیں جس سے دیگر زائرین کی راہ مسدود ہوتی ہے اور عبادات میں خلل پڑتا ہے۔ کیونکہ یہاں تمام مقامات پر نماز و اذکار کیلئے ہر وقت ہجوم موجود رہتا ہے اورجو لوگ تصاویر بنانے کے بجائے عبادات پر توجہ دیتے ہیں، وہ بھی سیلفی بخار میں مبتلا افراد کے کیمروں سے خود کو نہیں بچا پاتے اور ان گنت زائر خواتین اس سلسلہ میں شکایات کرتی اور بڑبڑاتی دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ سیلفی رجحان سے ان کی پرائیوسی متاثر ہوتی ہے۔ ادھرکئی زائرین نے فوٹو اور ویڈیوز سمیت سیلفیوں کا دفاع یہ کہہ کر کیاہے کہ وہ اپنے عمرہ و حج سفر کی یادیں محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے موبائل ویڈیو سے بہتر کوئی اورطریقہ نہیں ہوسکتا۔

یاد رہے کہ کورونا وبا سے قبل عام حالات میں حرمین شریفین میں ویڈیو گرافی پر امتناع عائد کیا تھا جو اب اُٹھا لیا گیا ہے۔ اب سیلفی معاملہ اس حد تک جا چکا ہے کہ سیلفی زائرین کے نزدیک سیلفی کی اہمیت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ان کو عبادات کے ذوق و شوق سے کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کو جہاں کوئی منظر اچھا لگتا ہے۔ وہ اپنی تصویر بناتے اور سوشل میڈیا کے ذریعے لگے ہاتھوں اس کی تشہیر کردیتے ہیں۔ سعودی تجزیہ نگاروں نے تسلیم کیا ہے کہ ایک ڈیڑھ دہائی پہلے مسجد الحرام میں سیلفیاں لینے اور تصاویر بنانے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ لوگ باگ اس قدر سیلفی دیوانگی میں مبتلا ہیں کہ وہ خانہ کعبہ کے طواف کی تصاویر و ویڈیوز بناتے ہیں اور بیوی اور بچوں کی طواف کی لائیو ویڈیوز شیئرکرتے ہیں۔ کئی تو اس قدر جنونی ہیں کہ وہ حج اسود کو بوسہ دینے کی ویڈیو اور تصویریں بطور خاص لیتے ہیں۔ زم زم پیتے وقت تصاویر لیتے ہیں اور سعی کے دوران بھی دعائیں مانگنے اور اذکار کی بجائے سیلفیاں بناتے ہیں اورلائیو ویڈیو کالنگ کا شغل پورا کرتے ہیں۔ ایسے میں کئی افراد ایسے ہیں جو دیگر زائرین نے ٹکرا جاتے ہیں، گر جاتے ہیں اور دوسروں کی عبادات میں خلل کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن ڈانٹ پھٹکار کے باوجود اپنی روش نہیں بدلتے۔

ایک سینئر سعودی منتظم نے ناگوار انداز میں کہا کہ اسمارٹ فون لئے ہوئے زائرین میں سے کچھ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے، سعی اور طواف کرتے سیلفی بنانے کو بھی شاید مناسک حج یا عمرہ ہی کا لازمی رکن سمجھ بیٹھے ہیں۔ یقیناً یہ رجحان عمرہ و حج کی افضل عبادات اور تقاضوں سے پہلو تہی کے مترادف ہے۔ رواں برس سعودی عرب سے عمرہ ادائیگی کے بعد واپس آنے والے کئی پاکستانی عمرہ زائرین کا کہنا تھا کہ ایک ایک وقت میں سو، سو زائرین حرم مکی اور مطاف میں سیلفیاں لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ سیلفی بیمار طواف کرنیوالے زائرین کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی ان کو منع نہیں کر رہا۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی ویڈیو بنا رہا ہے تو کوئی گھر والوں اور دوستوں کو لائیو عمرہ کے مناظر دکھا رہا ہے، جو یقیناً افسوسناک ہے اور سعودی اتھارٹیز کو علمائے دین کی مشاورت کیساتھ اس معاملہ پر سخت ایکشن لینا چاہئے ورنہ تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ لوگ حرم مکی و حرم مدنی میں صرف سیلفی لینے ہی جایا کریں گے۔

حرم مکی و مدنی شریف میں سیلفی، ویڈیوزاورپروموشنل ویڈیو کے حوالہ سے پوچھے جانیوالے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی عالم دین و مفتی حافظ عطا الرحمان نے بتایا ہے کہ عمرہ و حج زائرین کیلے مقدس حرمین میں سیلفیاں لینا اور ویڈیوز بنانا ،درست نہیں۔ یہ عمل نادانستہ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ زائرین، حج و عمرہ کی ادائیگی کیلئے لاکھوں روپیہ صرف کرکے حرمین کا سفر کرتے ہیں اور وہاں جاکر سیلفیاں لیتے ہیں۔ یہ خودنمائی کی بیماری ہے جس سے ہرزائرعمرہ و حج کو اجتناب برتنا چاہئے۔ حافظ عطا الرحمان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سعودی حکومت کو اس سلسلہ میں سخت ایکشن لے کر حرمین شریفین میں سیلفیاں لینے اور موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اسی مسئلہ پر مصری عالم دین شریف الطنطاوی نے کہا ہے کہ مناسک حج و عمرہ کے دوران صرف اللہ ہی سے لو لگانی چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت زائرین کے دل میں کہاں سے ایسی فضول باتوں کا خیال آتا ہے؟۔