اغواکار بچے کو لے کر حیدرآباد سے فرار ہونے والے تھے

والدین کی لاپرواہی کے نتیجے میں کراچی کے ایک واٹر پارک سے اغوا کئے جانے والے دو سالہ بچے کو میمن گوٹھ پولیس نے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد سے بازیاب کرالیا ہے۔ اس معاملے میں دو مردوں سمیت ایک خاتون کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ جن سے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کا عملہ تفتیش کرے گا۔

پولیس کو شک ہے کہ ملزمان کا تعلق اغوا کار گروہ سے ہے۔ جو بچوں کے اغوا کی وارداتیں سر انجام دے چکے ہیں۔ ملزمان کے پاس سے اسلحہ بھی ملا ہے جس کا ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔ جس مکان پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا وہ کچھ ماہ قبل ہی ملزمان نے کرائے پر لیا تھا۔ ملزمان کی آس پڑوس میں کسی سے کوئی بات چیت نہیں تھی۔ اس لئے ملزمان کے بارے میں پولیس کو علاقے سے کوئی معلومات نہیں مل پائی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار مورخہ 8 مئی کو کھارادر کی رہائشی فیملی جس کی سربراہی عبدالمعیز نامی شخص کر رہا تھا، سیر و تفریح کی غرض سے کاٹھور موڑ پر واقع فیسٹا نامی واٹر پارک گئے تھے۔ جہاں ان کے ساتھ مزید لوگ بھی تھے۔ سیر و تفریح میں یہ فیملی اتنی مگن ہو گئی کہ انہیں اپنے بچوں تک کی خبر نہیں رہی۔ جب وہاں موجود پانی کے تالاب میں نہا کر وہ واپس ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کا دو سالہ بیٹا مصعب معیز غائب ہے۔ جس کے بعد بچے کی تلاش شروع کی گئی۔ احتیاطاً واٹر پارک میں موجود پانی کے ٹینکوں اور تالابوں میں بھی غوطہ خوروں نے اسے ڈھونڈا کہ مگر بچے کا کہیں پتا نہ چلا۔ آخرکار بچے کا والد پولیس میمن گوٹھ تھانے گیا اور پولیس کو معاملہ بتایا۔ پولیس نے فیسٹا واٹر پارک کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے پارک میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کی اور اس کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج سے پولیس کو معلوم ہوگیا کہ معصب جب گھر والوں سے ان سے الگ ہوا تو اسے دو مردوں اور ایک خاتون جن کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا، نے اپنے حصار میں لیا اور کسی کو متوجہ نہ پاتے دیکھ کر مصعب کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ پارک سے باہر نکل کر اغوا کاروں نے مصعب کو سفید رنگ کی لینڈ کروزر میں بٹھایا اور حیدرآباد کی جانب نکل گئے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی میں آئے ملزمان کے چہروں کی مدد سے ان کی معلومات حاصل کرنے کیلئے نادرا ڈیٹا بیس سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ مگر اس سے قبل ہی جس لینڈ کروزر میں ملزمان بچے کو لے کر گئے تھے، اس کا نمبر پولیس نے ٹریس کر لیا۔ جو حیدرآباد کے رہائشی ایک شخص کی تھی۔ جس کا پتا لطیف آباد کا آیا۔

میمن گوٹھ تھانے میں بچے کے اغوا کا مقدمہ فوری طور پر درج کیا گیا اور محکمہ تفتیش میں تعینات پولیس افسران کی ایک خصوصی ٹیم لینڈ کروزر گاڑی کے مالک کے پتے کی جانب روانہ ہوئی۔ حیدرآباد پہنچ کر پولیس پارٹی نے وہاں کی مقامی پولیس سے رابطہ کیا اور ان کی رہنمائی میں پولیس پارٹی مطلوبہ پتے تک پہنچی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جس پتے پر پولیس نے چھاپہ مارا، وہاں سے بچہ برآمد ہو گیا جسے ایک کمرے میں اکیلا رکھا گیا تھا۔ وہاں موجود ملزمان اپنا سامان پیک کر رہے تھے۔ جس سے لگتا تھا وہ کچھ ہی دیر میں حیدرآباد شہر بھی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ پولیس نے ملزمان کو گرفت میں لے کر بچے کو ایس ایس پی حیدرآباد کے دفتر منتقل کیا۔ جہاں ڈاکٹر کو بلاکر بچے کا طبی معائنہ کرایا گیا۔ کیونکہ بچہ غنودگی کی کیفیت میں تھا۔ ڈاکٹر کی جانب سے مطمئن کیے جانے پر پولیس بچے کو لے کر فوری طور پر کراچی روانہ ہو گئی۔ جبکہ ملزمان کو ضروری کاغذی کارروائی کیلیے حیدرآباد پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے۔ جنہیں کسی بھی وقت کراچی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ بچے کے والدین نے کراچی پولیس اور حیدرآباد پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات زیادہ تر والدین کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں اور معصوم بچے اغواء کاروں کی نظروں میں چڑھ جاتے ہیں۔ مارکیٹوں، مزاروں، تفریحی مقامات سے جتنے بھی بچے لاپتہ ہوتے ہیں، ان کی گمشدگی یا اغوا میں سب سے اہم کردار ان کے اپنے والدین کا ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے بچوں کی جانب سے غافل نہ ہوں تو بچے کسی بھی صورت نہ تو گم ہوں اور نہ اغوا کاروں کے ہتھے چڑھیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو شک ہے کہ جن افراد نے بچے کو اغوا کیا۔ ان کا تعلق کسی اغوا کار گروہ سے ہے۔ جو ایسے مقامات سے بچوں کو اغوا کرتے ہیں اور پھر آگے فروخت کر دیتے ہیں۔ پولیس مزید معلومات جمع کر رہی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس مکان پر پولیس نے چھاپہ مارا۔ وہ بھی ملزمان نے کچھ ماہ قبل ہی کرائے پر لیا تھا۔ اس لئے اہل علاقہ کو بھی ملزمان کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ خاتون اغواکار سمیت تینوں ملزمان کو جلد کراچی منتقل کرکے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے سپرد کیا جائے گا۔ جو اغوا برائے تاوان کے کیسز حل کرنے میں خصوصی مہارت رکھتا ہے۔ اے وی سی سی کا عملہ ہی ملزمان سے تفتیش کرے گا۔ اگر تفتیش میں ملزمان یہ کہتے بھی ہیں کہ بچہ انہیں لاوارث ملا تھا اور وہ اسے انسانی ہمدردی کی وجہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے تو یہ سراسر جھوٹ تصور کیا جائے گا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ملزمان بچے کو واٹر پارک انتظامیہ کے حوالے کرتے۔ نیز یہ کہ اگر ملزمان کے ساتھ مزید لوگوں کو بھی اس معاملے میں ملوث پایا گیا تو انہیں بھی گرفتار کرکے سزا دلوائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں بچوں کے اغوا میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی چوکنا ہو گئے ہیں۔ کچھ روز قبل پی آئی بی کالونی عسکری پارک کے پاس سے بھی ایک بچی کو اغوا کیا گیا تھا جس کی وڈیو سوشل میڈیا اور نیوز چینل پر چلنے کے بعد ملزمان اغوا کی جا نے والی بچی منگھو پیر تھانے کی حدود میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ جسے بعد میں پولیس نے اس کے والدین کے حوالے کر دیا تھا۔ اے وی سی سی ذرائع کا کہنا تھا کہ ان معاملات کو نہایت سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور جلد کئی اہم گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔