دل ٹوٹ جانا باقاعدہ بیماری قرار

طبی ماہرین نے بتایا ہے کہ دل کا ٹوٹ جانا محض شاعرانہ استعارہ نہیں۔ بلکہ حقیقت یہی ہے کہ اچانک صدمہ سے دل ٹوٹ جانے سے ایسی بیماری لاحق ہوجاتی ہے جو انسان کی زندگی کی ڈور ٹوٹنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ برطانوی یونیورسٹی کے محققین نے بتایا ہے کہ کسی عزیز ہستی سے محروم ہو جانے یا بری خبر سننے پر دل کے عضلات میں ٹوٹ پھوٹ سے کسی کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

طبی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ یہ ایک تسلیم شدہ بیماری ہے جسے ’’ٹاکوٹسوبو کارڈیو مائیوپیتھی سینڈروم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دل کی ایسی عارضی تبدیل شدہ کیفیت ہے جو انتہائی جذباتی یا جسمانی دباؤ کے نتیجے میں رونما ہو سکتی ہے۔ اس حوالہ سے پہلی بار 1990ء میں جاپانی ماہرین کی جانب سے بتایا گیا تھا اور ’’ٹاکوٹسوبا‘‘ کی اصطلاح کیلئے اس لفظ کوایک شکاری جال کے نام رکھا گیا تھا، جس کو جاپانی ماہی گیر آکٹوپس کا شکار کرنے کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عام طور پر اس جذباتی و نفسیاتی کیفیت میں انسان دل گرفتگی میں ہوتا ہے اور اس کا اثر کچھ اس طرح پڑتا ہے کہ دل کے عضلات کمزور ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ جاپانی طبی ماہرین اب تک یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ نقصان عارضی ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس عارضہ کے اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں۔ برطانوی ڈاکٹر ڈینا ڈاسن کا استدلال ہے کہ ٹاکوٹسوبا ہماری توقعات سے بھی زیادہ عام عارضہ ہے اور اس سے ٹوٹ جانے والے دل مستقل طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے شکار افراد کے لیے عین وہی علاج ہونا چاہیے جو دل کے دورے کے بعد کیا جاتا ہے۔ مریضوں کو طویل عمر تک دوا اور نگہداشت فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے پروفیسر جیرمی پیرسن کہتے ہیں کہ یہ بیماری وہ بلا ہے جو کسی بھی صحت مند فرد پرکسی بھی وقت حملہ کرسکتی ہے۔ ہم غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ مرض وقت کے ساتھ یا توجہ و علاج کی مدد سے ازخود دور ہوجائے گا، لیکن ایسا ہرگزنہیں ۔ کم و بیش تین دہائیوں قبل جاپانی ایکسپرٹس نے انکشاف کیا تھا کہ دل ٹوٹنے کا عارضی عارضہ کسی بیماری یا تعلق ٹوٹنے یا کسی عزیز کی موت یا حادثہ کی خبر سے لاحق ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب آپ کے دل کا بایاں خانہ جو جسم میں خون پمپ کرنے کا بڑا چیمبر ہے، وہ اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے۔ جس سے دل کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ جب یہ عارضہ رونما ہوتا ہے تو انسانی دل کے بائیں خانے کا بالائی حصہ تنگ اور نیچے کا حصہ گول ہو جاتا ہے، جس سے یہ آکٹوپس کے جال جیسا دکھائی دینے لگتا ہے۔ بری خبر سننے کے بعد انسان پر بہت زیادہ نفسیاتی اور جذباتی دباؤ کی وجہ سے جسم اسٹریس ہارمونز کی بہت بڑی مقدار خارج کرنا شروع کر دیتا ہے جس سے دل کے پٹھوں میں شدید اکڑاؤ محسوس ہوتا ہے اور اس دبائو کے نتیجہ میں انسانی دل کا بایاں وینٹریکل کمزوری محسوس کرتا ہے۔ اسی وجہ سے دل کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

طبی ایکسپرٹس کہتے ہیں کہ اگر آپ کو بیٹھے بیٹھے ایسے محسوس ہو کہ آپ کو سانس نہیں آرہا ہے اور سینے میں درد اور دباؤ محسوس ہو تو اس صورت میں آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔ عمومی اعتبار سے دل ٹوٹنے کی یہ علامات دل کے دورے سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ مگراس کا فیصلہ مریض کے میڈیکل ٹیسٹ کے بعد ہی ہو سکے گا کہ یہ دل کا ٹوٹنا ہے یا دل کا دورہ ہے؟ اس تحقیق کے حوالہ سے برطانیہ کی یونیورسٹی آف ابرڈین کے تحقیقی ماہرین نے جذباتی صدمات کا شکارافراد کا ایک طبی و کیفیات کاسروے کیا، جس میں مریضوں کی کیفیات کا دو برس تک باقاعدگی کے ساتھ جائزہ لیا اور ریکارڈ مرتب کیا گیا۔ اگرچہ دل ٹوٹنے کا شکار ان میں سے کئی مریضوں کو ڈاکٹرکی جانب سے تندرست قرار دیا گیا۔ لیکن وہ افراد چلتے چلتے تھک جاتے تھے اور گھبراہٹ محسوس کر رہے تھے۔ اسی دو سالہ طبی و نفسیاتی جائزہ پر تحقیقی رپورٹ تیارکی گئی اوراس کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں ایسی ہزاروں اموات رونما ہوچکی ہیں جو دل ٹوٹنے کی وجہ سے واقع ہوئی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اموات کسی قریبی دوست یا پارٹنر یا بیوی یا شوہر کی ہلاکت کی خبر پر ہوئی ہیں۔