روس میں لیزرتوپ کی تیاری،عالمی طاقتوں میں خلائی جنگ کاخدشہ

ماسکو: روسی سائنسدانوں نے روسی صدرولادی میرپیوٹن کے حکم پر دنیا کی جدید اور انتہائی مہلک لیزر توپ بنانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں ۔جدید ترین روسی لیزرتوپ اتنی طاقتور ہوگی کہ وہ خلا میں موجود کسی بھی مصنوعی سیارے کو اپنی انتہائی طاقتور لیزرشعاعوں سے تباہ کردے گی۔

لیزرتوپ کی تیاری کےباعث اس میدان میں دوسرے ملکوں کے شامل ہونے کے بعد ایک نئی عالمی جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیاہے۔

زمین کے مدار میں موجود اشیا کو تباہ کرنے کیلئے لیزر کےطول وعرض کو استعمال کیا جائےگا۔روس نے پہلے ہی جدیدجنگی طیاروں میں اینٹی سیٹلائٹ لیزر نصب کرنے کا کام شروع کیا ہواہے۔

امریکی ایئر فورس کےجنرل ڈیوڈ گولڈفین کہتے ہیں کہ خلائی جنگ صرف چند سال دوررہ گئی ہےکیونکہ روس خلا میں کسی بھی چیز کو تباہ و برباد کرنے والی لیزر توپ بنانے کی صلاحیت حاصل کرچکا ہے

روس نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ اس کے جدید ترین ہتھیار کا سائز ایک بہت بڑی ٹیلی اسکوپ جتنا ہوسکتا ہے جبکہ اس کی وجہ سے سمندروں میں قریبی جنگی بحری جہازوں کےحملوں کا خطرہ بھی ختم ہوجائےگا

اس اطمینان کے باوجود کہ یہ جدید ترین لیزر توپ صرف اور صرف خلا میں چیزوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کی جائے گی ماہرین ڈرتے ہیں کہ یہ خطرناک ہتھیارپھر بھی ولادی میرپیوٹن کے خطرناک اور جدید ترین اسلحہ کا اہم جزاور حصہ رہے گا

امریکی ایئر فورس کے سربراہ کو خدشہ ہے کہ خلائی جنگیں ہوئیں تو اس کے باعث دنیا کے سپر پاورزاپنی معاشی صورتحال کو سنبھال نہیں سکیں گے اور چند سالوں کے اندر ٹوٹ جائیں گے

روسی خلائی و تحقیقی ادارے روسکوس موس کےذیلی ادارے کے سائنسدان پہلے ہی لیزر توپ کی تیاری کا کام شروع کرچکے ہیں۔روسی سائنس و انڈسٹریل کارپوریشن ’’پریکاشن انسٹرومنٹ سسٹمز‘‘کی ایک سینئرارکان کی ٹیم ایک بڑی اور جدید ترین ٹیلی اسکوپ کو جدید ترین لیزر توپ میں تبدیل کرنے کیلئے آلٹے آپٹیکل لیزر سینٹر میں کام کررہی ہے جو روسی شہر شیوشکا سے 45کلومیٹر دور قازکستان کی سرحد کے نزدیک ہے۔

لیزر توپ کو ممکنہ طور پرسولڈ اسٹیٹ جنریٹر سے چلانے کا منصوبہ زیرغور ہےجبکہ تحقیقی ٹیم دیگر اسے چلانے کیلئے دیگر زرائع استعمال کرنے پر بھی غور کررہی ہے

امریکا کے خلائی نگرانی کےادارے کے مطابق اس دنیا کی آبادی خلائی ملبے سے 21ہزار گنا زیادہ ہےجس میں خلا میں چیزیں اور سامنا بھیجنے والی گاڑی ،ماضی کے مشن کا سامان اور ان سے الگ ہونے والے پرزے و آلات اورناکارہ ہوتے خلائی جہازاور مصنوعی سیارےاور ان سب کا ٹوٹا پھوٹا سامان شامل ہے

روسی خلائی تحقیقی ادارے کے سائنسدانوں کا کہنا ہےکہ اگر خلائی ملبے کی صفائی یا اسے ٹھکانے لگانے کے بارے میں ابھی سے نہیں سوچا گیا اور اس پر غور نہیں کیا گیاتویہ زمین کے مدار کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتاہےاور یہ اگلی ایک یا دو صدیوں میں زمین کے مدار کو روک بھی سکتاہے۔

اس سال کے شروع میں یہ انکشاف ہوا تھاکہ روسی حکومت نے جہازوں مین نصب لیزر کو اینٹی سیٹلائٹ سسٹم اور مصنوعی سیاروں کے سسٹم کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے

روسی خبررساں ادارے انٹر فیکس نے اپنے گمنام اور خفیہ زرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ اسلحہ ساز روسی ادارے الماز اینٹے نے اینٹی سیٹلائٹ کمپلیکس کی تعمیر مکمل کرلی ہے۔ اس سال اپریل میں الماز اینٹے کے چیف ڈیزائنر پویل سوزینوف نے روسی خبررساں ایجنسی ریانووستی کو بتایا تھا کہ تیار کی جانے والی لیزر توپ الیکٹرونک اور جدید سسٹم سے لیس ہوگی جو خلائی مدار میں براہ راست اور مینول طریقوں سے کام کرسکے گی اور اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بناسکے گی۔

ماہرین اورتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیزر توپ کا پروجیکٹ روسی سیاستدانوں کے کمیشن نے منظور کیا تھا اور اب یہ منصوبہ روسی حکومت کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔

ایک بڑے ریسرچر سیموئل بینڈٹ کا کہنا ہے کہ روس امریکی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ سسٹم کو اپنے لیے ایک خاص دشمن سمجھتا ہے او روہ خلا میں امریکی ٹیکنالوجی کا برابری کی بنیاد پر مدمقابل ہوکرمقابلہ کرنا چاہتا ہے۔اس وقت خلا میں امریکا اور چین برابری کی بنیاد پر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کامقابلہ کررہے ہیں۔