حکومتی کامیابی کوشورشرابےسےنہیں روکاجاسکتا۔صدر مملکت

شورمچانےکی بجائےحقیقت تسلیم کرنی پڑےگی ، صبرکریں اورسنیں۔ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

               
September 13, 2021 · |, اہم خبریں, قومی
وفاق اور صوبوں کا تنازع ملک کے لیے خطرناک ہے۔فائل فوٹو

وفاق اور صوبوں کا تنازع ملک کے لیے خطرناک ہے۔فائل فوٹو

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سپیکر اسد قیصر ، وزیراعظم پاکستان عمران خان ، معزز اراکین پارلیمنٹ اور مہمان گرامی آپ سب کو اسلام علیکم،تیسرے سال کے اختتام اور چوتھے سال کے آغاز پر تمام معزز اراکین پارلیمنٹ کو مبارک باد پیش کرتاہوں، اللہ کے حضور دعا گو ہوں کہ پاکستان میں جمہوری اقدار اور ایک دوسرے کی برداشت کی روایات فروغ پائیں، میری آج کی گفتگو ، پاکستان کی حال اور مستقبل کے حوالے سے ہے کیونکہ میرا ملک نئی اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے ، گزشتہ تین سالوں میں بہت سی مثبت تبدیلیان آئیں ہیں ، آج کی تقریران کا احاطہ کرنے کی کوشش ہو گی ۔

صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ شورمچانےکی بجائےحقیقت تسلیم کرنی پڑےگی ، صبرکریں اورسنیں،عوام کوبات سمجھ آگئی ہےیہاں بھی سمجھنی چاہیے،  حکومتی کارکردگی اورکامیابی کوشورشرابےسےنہیں روکاجاسکتا، گزشتہ 3 سالوں میں ملک وقوم میں بہت مثبت تبدیلیاں آئی ہیں، پاکستان درست سمت کی جانب اور معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے، تیسرےپارلیمانی سال کی تکمیل پرمبارکبادپیش کرتاہوں۔

عارف علوی نے کہا کہ کوروناکےباعث دنیابھرکی معیشتیں متاثرہوئیں لیکن بہترحکومتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معیشت مستحکم رہی، تعمیراتی شعبےمیں ترقی کاسہراوزیراعظم کےسرہے، حکومت نےتعمیراتی شعبےکو36ارب روپےکی سبسڈی دی، غیرملکی سرمایہ کاروں کےاعتمادمیں60فیصداضافہ ہواہے۔

صدرمملکت نے بتایا کہ کرپشن کےناسوراورماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سےہم ترقی سےمحروم رہے، ہم نےماضی میں ٹیلنٹ کی قدرنہیں کی، ہم نےلوٹ مارسےتوجہ ہٹاکرانسانیت پرفوکس کیاہے، 3 سال میں پاکستان نےاندرونی وبیرونی محاذپرکامیابیاں حاصل کیں۔

صدرمملکت نے بتایا کہ کرپشن کےناسوراورماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سےہم ترقی سےمحروم رہے، ہم نےماضی میں ٹیلنٹ کی قدرنہیں کی، ہم نےلوٹ مارسےتوجہ ہٹاکرانسانیت پرفوکس کیاہے، 3 سال میں پاکستان نےاندرونی وبیرونی محاذپرکامیابیاں حاصل کیں، ملک میں قرض کی سہولت تو بہت زیادہ ہے لیکن جہالت کی وجہ سے قرض لینے کی تعدادکم ہے۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بڑی تبدیلی آئی، عمران خان کا شروع سے موقف رہا ہے کہ جنگ کی بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کیا جائے، افغانستان کی نئی حکومت اپنے عوام کو متحد کرے ، فتح مکہ پر نبیؐ کی تعلیمات کے مطابق معافی کی پالیسی اپنائے، افغان سرزمین سے پڑوسی ممالک کو خطرہ نہ ہو، طالبان رہنماؤں کے بیانات حوصلہ افزا ہیںِ، دنیا افغان عوام کو بے یارو مددگار نہ چھوڑے بلکہ ان کی تعمیر و ترقی میں مدد کرے، دنیا تسلیم کرے کہ افغانستان کے متعلق عمران خان اور پاکستان کا مشورہ درست ثابت ہوا، دنیا کو دیگر معاملات میں بھی عمران خان کی شاگردی و مریدی اختیار کرنی چاہیے، انہوں نے کتنا بڑا مشورہ دیا لیکن دنیا کو کھربوں ڈالر خرچ کرنے اور لاکھوں افراد کی جانیں جانے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی۔

صدرعارف علوی کا کہنا تھا کہ چین نےپاکستان کی ترقی میں اہم کرداراداکیاہے، چین کےساتھ دوطرفہ تعلقات کوقدرکی نگاہ سےدیکھتےہیں، سی پیک گیم چینجرمنصوبہ ہےاس سےخطےمیں ترقی ہوگی، بھارت پاک چین تعلقات میں دراڑپیداکرنےکی ناکام کوشش کرتارہتاہے، بھارت میں ایٹمی مواد کی کھلم کھلافروخت باعث تشویش ہے اور بھارت کےفاشسٹ نظریئےکی مذمت کرتاہوں۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 25.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ، ترسیلات زر 19.4 ارب کے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں، چھ ارب ڈالر گزشتہ سال سے زیادہ ہے ، اس سال کے شروع کے دو مہینے میں مزید دس فیصد اس میں اضافہ ہواہ ، پاکستان سٹاک ایکسچینج نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں اور دنیا کی چوتھی بہترین کارکردگی کا اعزاز حاصل کیا ،مئی میں 2.21 ارب کے ریکارڈ حصص کی خریدو فروخت ہوئی۔سروے کے مطابق سمندر پاکستان سرمایہ کاروں کا معیشت اور معاشی پالیسی پر اعتماد 60 فیصد بڑھا ہے ۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایف بی آر نے موجودہ مالی سال کے دو مہنوں میں ہدف سے 160 ارب روپے زیادہ اکھٹا کیاہے ۔ترسیلات زر حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کی عکاسی کرتاہے ، میں حکومت کو مبارک باد دیتاہوں کہ ایف اے ٹی ایف کے میدان میں تن دہی سے کام کرتے ہوئے قوانین اور پراسیجر بنا دیئے گئے اور لاگو بھی کر دیئے گئے ، عوام اور کمزور طبقے کے لوگوں کو حکومت نے بہت بڑا کنسٹرکشن پیکج دیا ،ماکن اور چھت کی فرہمی کیلئے نیا پاکستان پروگرام کا آغاز کیا ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو مکان کی تعمیر کیلئے آسان قرض کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے ، عوام کو بات سمجھ آ گئی ہے ، یہاں بھی لوگوں کو سمجھ آنی چاہیے ۔ تعمیراتی شعبے میں تاریخی ترقی کا شعبہ عمران خان کے سر پر جاتاہے ، جنہوں نے عوامی پالیسی بنائی اور اللہ نے بھی کامیابی عطا فرمائی ۔

صدر نے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت برآمدات میں 47 فیصد اضافہ ہواہے ۔ وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی آن لائن تربیت کا پروگرام قابل ذکر ہے ، یہ امر قابل تحسین ہے کہ اب تک 17 لاکھ نوجوانوں کو اس پلیٹ فارم کو تربیت دی جاچکی ہے جس میں اکثریت 18 سے 29 کے نوجوان ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادارک ہے کہ دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر ہری ہے جو شور شرابے سے روکا نہیں جا کستا ،یہ فکری اور ذہنی انقلاب ہے ، یہ ترقی جسے ہمیں اینٹ اور گارے کی ترقی بھی کہتے ہیں، ۔

صدرعلوی نے کہا کہ میں یہ بھی سمجھتاہوں کہ ذہانت کے اعتبار سے پاکستانی قومی اور نوجوان دنیا میں کسی قوم سے پیچھے نہیں ہیں ، اللہ نے بڑی مساوات کے ساتھ ذہن سب میں بانٹا ہے، بدقسمتی سے ماضی میں ہیومن ڈولپمنٹ کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ، کرپشن کے ناسور اور ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ترقی سے محروم رہے بلکہ دنیا سے پیچھے رہ گئے ۔ٹیلنٹ کی قدر نہیں کی میرٹ کی پرواہ نہیں کی ،نتیجہ گورننس کمزور ہوئی اور برین ڈرین کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

صدر علوی نے کاہ کہ قومی سلامتی کا تصور سرحدوں اور فوجی معاملات تک محدود نہیں بلکہ ماحول، خوراک، تعلیم ، صحت کے شعبے ، مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمیں مکمل ادارک ہے کہ نئے عزیم الشان پاکستان کا قیام تعلیم یافتہ ذمہ دار قوم کے ذریعے ہی ممکن ہے ،ہرمند اور ذہین افراد اقوام کی ترقی کیلئے سب سے بڑا کردار ہیں ۔ حکومت معاشرے کے کمزور افراد کی فلاح و بہود کیلئے احساس پروگرا م جیسا منصوبہ وجودمیں لائی ہے ، وسیلہ تعلیم،، احساس کفالت، احساس سکالر شپ، احساس لنگر خانے اور احسا س کوئی بھوکا نہ سوئے جیسے پروگرام کے ذریعے مستحق افراد کے سماجی تحفظ پر کام کر رہی ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سال تقریب 208 ارب روپے مختص کیے ہیں ، ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو کیش آمدنی دی جائے گی جس سے ملک کے 30 فیصد آبادی مستفید ہو سکے گی ، اس میں نہ صرف خواتین بلکہ خصوصی افراد کو بھی مد نظر رکھا گیاہے ۔ احساس کفالت کے زریعے 70 ہزار خواتین کو ماہانہ دو ہزار روپے دیئے جائیں گے اور بیس لاکھ خصوصی افراد کو ماہانہ دو ہزار روپے دینے کی منظوری بھی دی گئی ہے ۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے خصوصی قرض کی سکیم متعارف کروائی گئی ، قرض کی سکیمیں تو موجودہیں لیکن جہالت کی وجہ سے قرض لینے والوں کی تعداد بہت کم ہے ، کامیاب جوان پروگرام بہترین کام ہے جس کیلیے سو ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے ، تاکہ ملک کے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے آسان قرضہ دیا جائے ۔

صدر نے کاہ کہ حکومت نے نوجوانوں کی کپیسٹی بلڈنگ کے علاوہ باہنر بنانے کیلئے ہنر مند پاکستان پروگرام کیلئے دس ارب روپے کی رقم مختص کی ہے ، ملک بھر میں 720 اداروں میں نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جارہاہے ۔معزز حاضرین اسی طرح حکومت عوام کے صحت کے مفت علاج کیلیے سرگرم عمل ہے ، پاکستانی یونیورسل ہیلتھ کوریج کی طرف جارہاہے ، اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ خاندان اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں ، آپ تعلق کسی بھی علاقے سے ہو ، آپ جسمانی کمزوری معذوری کا شکارہوں یا تعلق کسی بھی اقلیت سے ہو ، ریاست آپ کی صحت کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہیے ۔بہت جلد مکمل آبادی کو صحت سہولت پروگرام پہنچا دیا جائے گا۔

صدر مملکت نے مزید کہا کہ ٹیلی میڈیسن کواپنانے پر صوبے توجہ دیں ، غریب آدمی فون پر بات کر کے بیماری پر مشورہ لے لیں، ہسپتال جانے کی ضرورت نہ ہو، ہسپتال بوجھ سے بچ جائیں گے ،پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر توجہ دینی چاہیے ، ہمیں تعلیم ، صحت ، ٹرانسپورٹ ، نکاسی آب اور توانائی جیسی ضروریات عوام تک پہنچانے میں مشکلات بڑھتی جائیں گے۔