عمران خان پر نااہلی کی مزید دو تلواریں لٹک رہی ہیں-فائل فوٹو
عمران خان پر نااہلی کی مزید دو تلواریں لٹک رہی ہیں-فائل فوٹو

توشہ خانہ ریفرنس۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیدیا

اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس کیس میں سابق وزیر اعظم اورپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نااہل قرار دیدیا۔

الیکشن کمیشن میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی۔ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قرار دیا۔

الیکشن کمیشن نے مختصرفیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ  عمران خان نے غلط معلومات فراہم کیں، جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے، عمران خان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی قرار دی جاتی ہے۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کی نااہلی 4 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اگست میں اراکین قومی اسمبلی کی درخواست پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجا تھا جس میں ان کی نااہلی کی درخواست کی گئی تھی ، الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ 19 ستمبر کو محفوظ کیا تھا

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی دستاویز کے مطابق عمران خان نے توشہ خانہ سے 14 کروڑ 20 لاکھ 42 ہزار روپے مالیت کے تحائف حاصل کیے جب کہ 30 ہزار روپے مالیت سے زائد کے تحائف ادائیگی کرکے حاصل کیے۔

عمران خان نے ان تحائف کے 3 کروڑ 81 لاکھ 77 ہزار روپے ادا کیے اور 8 لاکھ مالیت کے تحائف کی ادائیگی نہیں کی۔ عمران خان کی اہلیہ نے 58 لاکھ 59 ہزار روپے کے ہار، بُندے، انگوٹھی اور کڑا 29 لاکھ 14 ہزار روپے وصول کرکے جب کہ عمران خان نے گھڑی ،کف لنکس، پین، انگوٹھی 2کروڑ 27 لاکھ روپے دے کر حاصل کیے۔

ریفرنس دستاویز میں عمران خان کی حاصل کی گئی گھڑی کی اصل مالیت 8 کروڑ 50 لاکھ ،کف لنکس کی اصل مالیت 56 لاکھ روپے، پین کی اصل مالیت 15 لاکھ اور انگوٹھی کی اصل مالیت 87 لاکھ ہے۔

اس موقع پر ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر پورے علاقے اور خصوصاً عمارت کے ارد گرد سخت سکیورٹی تعینات کردی گئی ہے جب کہ نفری کے لیے آنسو گیس کے شیل سمیت دیگر ضروری سامان بھی پہنچا دیا گیا ہے۔  سیکیورٹی کے لیے پولیس کے علاوہ ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے پولیس افسران کی زیر نگرانی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ایک ہزار سے زائد اہل کار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ایف سی اوررینجرز اہلکار بھی شامل ہیں۔

سکیورٹی انتظامات کے تحت الیکشن کمیشن میں کیس سے غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے جب کہ ریڈ زون میں بھی داخلہ محدود ہے۔

اسلام آباد پولیس نے توشہ خانہ ریفرنس کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں پی ٹی آئی کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا، جس کے مطابق ایکسپریس وے اور سری نگر ہائی وے سمیت پورے دارالحکومت میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔