ہنڈیا کو آگ پر رکھنے کے کچھ ہی دیر بعد اندر سے آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔فائل فوٹو
ہنڈیا کو آگ پر رکھنے کے کچھ ہی دیر بعد اندر سے آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔فائل فوٹو

’’جنات کے سردار سے مدد لینا حرام فعل ہے‘‘

میگزین رپورٹ :
جنات اتارنے کیلیے جو غیر شرعی عملیات انجام دیئے جاتے ہیں، ان میں مزید طریقے درج ذیل ہیں۔

طریقتہ الاقسام:

اس طریقہ کار میں جنات کے بادشاہ یا سردار سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ درحقیقت ہر جن کا کسی نہ کسی قبیلے یا ملک سے تعلق ہوتا ہے اور اس کا ایک سردار یا بادشاہ ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار میں عامل اپنے ساتھ کام کرنے والے جن کے ذریعے مریض پر موجود جن کا قبیلہ معلوم کرتا ہے۔ اور پھر مریض پر موجود جن کے قبیلے کے سردار کے سامنے معاملہ رکھتے ہوئے اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ پس وہ سردار بعض شرائط پر راضی ہوتا ہے، جس میں شرک کی کثرت ہوتی ہے اس طرح وہ سردار اپنے ماتحت جن کو ڈرا دھمکاکر اس انسان کا پیچھا چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ شرک کی وجہ سے یہ طریقہ بھی حرام ہے۔

جن کوقید کرنے کا طریقہ:

اس طریقہ کار میں عامل یا جادوگر شرکیہ کلمات کے ذریعے مریض پر موجود جن کے قبیلے کے سردار کو اس بات پر راضی کرتا ہے کہ وہ مریض پر موجود جن کو کچھ عرصے کے لئے قید کردیں۔ پس اس طرح اس جن کے قبیلے والے اپنی شرکیہ شرائط پوری کرواکر اس جن کو قید کردیتے ہیں جس کی وجہ سے مریض بہتر ہوجاتا ہے ۔
جن کو عذاب دینے اور قتل کرنے کا طریقہ:

یہ طریقہ بھی سابق طریقے کی طرح ہی ہے اور اس میں بھی شرک کا بہت زیادہ استعمال ہے جس کی وجہ سے یہ حرام ہے ۔

جن کو جلاکر ماڈالنے کا طریقہ:

یہ بھی گزشتہ طریقوں کی طرح ہی ہے لیکن اس میں شرک بہت ہی زیادہ ہے۔ اللہ سب کو اس سے بچائے۔ اگر فتنے کا خوف نہ ہوتا تو میں ضرور اس طریقے کو پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ یہاں بیان کرتا، لیکن فتنے اور شرک کے خوف نے مجھے اس بات سے مانع رکھا ہے۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ اس طریقہ کار میں انسان شرک کی پستیوں اور ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہو کہ کبھی کوئی جن انسان کی تابع داری اس وقت تک نہیں کرتا جب تک اسے اس بات کا یقین نہ ہو کہ انسان اس کے لئے شرکیہ کلمات اور اعمال کا بندوبست کر رہا ہے۔ بعض اوقات یہ شرک کلمات کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور بعض اوقات مختلف اعمال کی صورت میں چھپا ہوتا ہے۔ لیکن گہرائیوں میں گر جاتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہو کہ کبھی کوئی جن انسان کی تابع داری اس وقت تک نہیں کرتا، جب تک اسے اس بات کا یقین نہ ہو کہ انسان اس کے لئے شرکیہ کلمات اور اعمال کا بندوبست کر رہا ہے۔ بعض اوقات یہ شرک کلمات کی شکل میں ظاہر ہوتا ہیاور بعض اوقات مختلف اعمال کی صورت میں چھپا ہوتا ہے۔ لیکن بہرحال اس طریقہ کار کے لئے استعمال کئے جانے والے کلمات ، اعمال اور افعال سب اس قدر خطرناک ہیں کہ انسان ابتدا میں ہی ذلت و جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس کا نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ان اعمال بد سے بچائے ۔
تنبیہہ:

جنات اور شیطانی جالوں میں سے ایک یہ ہے کہ جنات، عاملین اور جادگروں کو اکثر ایسے کام کرنے پر ابھارتے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر قرآنی آیات استعمال ہوتی ہیں۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جنات یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی جانب سے بتائے جانے والے اعمال طاہر و طیب ہیں۔ لیکن درحقیقت ان کی تہہ میں کفر و شرک کا ایسا طوفان چھپا ہوتا ہے جو انسان کو ذلت کی گہرائیوں میں بہاکر لے جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے جنات سے عہد لینے کے لئے بھی ایک الگ صفحہ مختص کیا ہے تاکہ عاملین کو اس بات کا ادراک اچھی طرح ہوجائے۔ بہرحال ہر وہ طریقہ جس میں شرک یا حرام باتوں کی طرف توجہ ہو ، وہ حرام ہے۔
مرگی یا جنات کے اثرات بد سے بچنے کے اعمال:

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کے مطابق اگر کچھ اعمال پر پابندی اختیار کی جائے تو انسان جنات کی وجہ سے ہونے والے اثرات اور مرگی جیسی بیماری سے مکمل محفوظ رہ سکتا ہے۔ یعنی مختلف مسنون دعائوں کی پابندی۔ جب بھی کسی اونچے مقام سے نیچے کی جانب چھلانگ لگائی جائے تو اللہ کا نام لیا جائے۔ جب بھی زمین پر گرم پانی ڈالا جائے تو اللہ کا نام لیا جائے۔ اندھیرے کمرے یا مقام پر داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔ کبھی بھی بلی یا کتے کو تکلیف نہ دی جائے۔ اکیلا نہ سویا جائے، لیکن اگر کوئی مجبوری لاحق ہو تو باوضو مختلف مسنون دعائیں سونے سے پہلے پڑھی جائیں۔ کسی بھی زیر زمین بل میں پیشاب یا پاخانہ نہ کیا جائے۔ کبھی گھر میں آنے والے سانپوں یا دیگر موذی جانوروں کو درج ذیل کام کرنے سے قبل نہ مارا جائے:

اولاً: جب بھی گھر میں سانپ نظر آئے، اُسے مارنے سے قبل تین دن تک اُسے بتایا جائے کہ اگر وہ جن ہے تو ہمارا گھر چھوڑ دے۔ اس سلسلے میں ایک انصاری نوجوان کا قصہ گزار ہے جس کے بعد نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ گھروں میں اکثر مختلف مخلوقات آتی رہتی ہیں، پس جب تم کسی کو گھر میں دیکھو تو تین مرتبہ بتاکر اپنی طرف سے حجت پوری کردو۔ اگر وہ نہ مانے تو اسے ماردو کیوں کہ وہ کافر ہے۔ مسلم کی ایک اور روایت میں تین مرتبہ کے بجائے تین دن کا ذکر آیا ہے۔ ’’تین دن تک اسے اجازت دو بھاگنے کی ، اگر وہ پھر ظاہر ہو تو اسے ماردو کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘

اس ضمن میں امام نووی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ قاضی نے ابن حبیب سے منتقل کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو ’’میں تمہیں سلیمان بن دائود علیہ السلام سے کئے گئے عہد کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم ہمیں تکلیف نہ پہنچائو اور ہمارے سامنے ظاہر نہ ہو۔‘‘ امام مالک نے کہا کہ اتنا ہی کافی ہے کہ کہے ’’ہم تمہیں اللہ اور یوم آخرت کا واسطہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے ظاہر نہ ہو اور تکلیف نہ پہنچائو۔‘‘
ثانیا: اگر اسے تین دن بعد بھی دیکھو تو اسے ماردو، کیونکہ وہ شیطان ہے یا یہودی یا نصرانی جن۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کوئی ظالم مسلمان جن ہو یا حقیقت میں کوئی سانپ یا بچھو ۔

ثالثا: اگر گھر میں کوئی سانپ (ذا طفیتینا یعنی جس کی کمر پر دو سفید یا کالے نشان ہو) یا سانپ (بتراء یعنی چھوٹی دم والا سانپ) نظر آئے تو اسے فوری ماردو۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے اگرچہ گھروں میں گھومنے والے موذی جانوروں کو مارنے سے قبل اعلان کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن ذاطفتین یا بتراء کو فوری مارنے کا حکم دیا ہے۔
راعا: اگر گھر سے باہر سانپ دیکھو تو اسے ماردو، خواہ کسی بھی قسم کا ہو کیونکہ آپﷺ نے صرف گھروں میں آجانے والے سانپوں کے سامنے اعلان کرنے کا حکم دیا ہے۔

خامسا: اگر سانپ مسجد میں نظر آئے تو اسے فوراً ماردیا جائے۔ یہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے۔

-9 کسی ریگستان یا صحرا یا غیر آباد مقام پر رات اکیلے بسر نہ کریں۔

-10 جب کوئی بھاری چیز زمین پر پھینکیں تو اللہ تعالیٰ کا نام لیں۔