فائل فوٹو
فائل فوٹو

پنجاب میں ایک لاکھ 70 ہزار ملزمان سزا سے محفوظ

نواز طاہر :

پنجاب میں ایک برس کے دوران تمام تر اقدامات کے باوجود عوام کو چوروں، ڈاکوﺅں اور اغوا کاروں سے تحفظ نہیں مل سکا۔ قتل و غات بھی جاری رہی۔ نئے سال میں خواتین کے معاملات سے جڑے قتل کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے جرائم کی شرح میں چھالیس فیصد تک کمی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

یہ دعویٰ درج ہونے والے مقدمات کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ جبکہ بڑی تعداد میں مقدمات درج ہی نہیں کیے گئے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی مقدمات کے اندراج میں مشکلات کی شکایات عام ہیں اور بیشتر معاملات میں رشوت دے کر مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ اس کی عکاسی اس سے ہوتی ہے کہ رشوت اور بد عنوانی جیسے مسائل تقریباً چھیاسٹھ فیصد تک ہوگئی ہے۔ 2024ءکے اعدادوشمار کے مطابق گیارہ لاکھ بیالیس ہزار دو سو چونسٹھ مقدمات درج کیے گئے۔

محکمہ پراسیکیوشن کے سرکاری طور پر دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ایک لاکھ ستتر ہزار دو سو ساٹھ مقدمات میں ملزموں کو سزا نہ مل سکی اور وہ بری ہوگئے۔ جبکہ ایک لاکھ آٹھ ہزار نو سو تین مقدمات میں سزا سنائی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق پانچ ہزار ایک سو اکیس قتل کے کیسز میں سے ایک سو باون کا سراغ ہی نہیں لگایا جاسکا ، سات سو سترہ تفتیش کے مرحلے طے نہیں کرسکے۔ اغوا کے تیس ہزار ایک سو سینتیس مقدمات میں سے پانچ ہزار دو سو انیس کا چالان مرتب ہوا۔ جبکہ دو ہزار ایک سو گیارہ منسوخ کیے گئے۔ سات سو تینتالیس کے سراغ نہیں لگایا جا سکا اور پانچ ہزار دو سو انیس کا چالان مرتب ہوا اور یہ سب سے زیادہ شرح تنسیخ رہی۔ ان میں سے بیشتر مقدمات عدالتی احکامات پر منسوخ کیے گئے۔ جو مرضی کی شادی کیے جانے کی بنا پر اغوا کے شبہے یا لواحقین کے غصے کی وجہ سے درج کیے گئے تھے۔

اغوا برائے تاوان بیاسی وارداتیں ہوئیں۔ جن میں سے بارہ مقدمات مختلف وجوہ پر منسوخ کیے گئے۔ اننچاس کے چالان مرتب کیے گئے اور گیارہ کی تفتیش جاری ہے۔ تاہم ایسا کوئی کیس نہیں رہا جس میں ملزموں کا سراغ نہ لگایا جاسکا ہو۔ لیکن ’امت‘ کی تحقیقات کے مطابق اس میں کچے کے علاقے میں ہنی ٹریپ یا دیگر انداز سے اغوا ہونے والے کچھ اہم معاملات کے مقدمات درج اور ٹریس ہونے کی شرح میں اعدادوشمار پر تحفظات موجود ہیں۔ کیونکہ متعدد وارداتیں پنجاب کی حدود میں ہونے کے باوجود ان کے مقدمات پنجاب کی حدود کے بجائے سندھ اور خیبر پختون میں درج کیے گئے۔ اور کچھ لوگ تاحال بازیاب ہونا باقی ہیں۔ ان کے ملزم نامعلوم ہیں اور دستاویزات میں ملزم کے خانے میں نامعلوم افراد درج ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کی ایک لاکھ آٹھ سو تریپن وارداتوں میں سے اڑتیس ہزار تین سو چھتیس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ چوبیس ہزار اٹھاسی کی تفتیش کا عمل جاری ہے۔ جبکہ چونتیس ہزار تین سو چھبیس مقدمات کے چالان مرتب کیے گئے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں گاڑی چھیننے کی واردتوں میں البتہ نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرینِ تفتیش کے مطابق شہر میں سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کی موجودگی میں کار چھیننے اور چوری ہونے کی وارداتیں قدرے کم ہوئی ہیں۔ لیکن یہ حفاظتی تدابیر اسٹریٹ کرائمز میں کمی نہ لانے کے معاملے پر سوالیہ نشان ہیں۔

جبکہ گھروں اور گلیوں میں بڑی تعداد میں نجی سی سی ٹی وی کیمرے بھی بڑی تعداد میں نصب ہیں۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات کے نام پر اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے مرکزی کردار کی حامل ڈسٹرکٹ پولیس کی نفری میں اضافہ کم کرکے دیگر گروپوں اور اسکواڈز پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ تھانوں میں آبادی کی نسبت نفری کم ہونا بھی اسٹریٹ جرائمز کی ایک وجہ ہے۔