جنگ 40واں دن: پاکستان نے ایران اور امریکہ میں جنگ بندی کرا دی- آبنائے ہرمز بھی کھلے گی
ایران جنگ پر لائیو اپ ڈیٹس
- بدھ 8 اپریل کو جنگ 40 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
- پاکستان کی تجویز پر امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ہوگئی ہے۔ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔
- دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی، اور آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ثالثی کی۔
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کو اب اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھنے یا مکمل جنگ بندی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
ٹیلی گرام پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی شرائط بالکل واضح ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ بیک وقت اسرائیل کے ذریعے جنگ اور خطے میں امن کی بات نہیں کر سکتا، یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔
امریکہ کے لیے الٹی میٹم: عباس عراقچی نے کہا کہ “بال اب امریکہ کے کورٹ میں ہے” اور اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جارحیت جاری رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے لبنان میں اسرائیلی حملوں اور عام شہریوں کے قتلِ عام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت خاموش تماشائی نہیں اور عالمی رائے عامہ امریکی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ اگر امریکہ خطے میں کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل پر دباؤ ڈال کر لبنان اور دیگر محاذوں پر حملے فوری طور پر رکوانا ہوں گے۔
غزہ سٹی: غزہ میں صحافیوں پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، اسرائیلی فوج نے الجزیرہ مبشر کے نمائندے محمد وشاح کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق محمد وشاح غزہ سٹی کی مرکزی شاہراہ پر گاڑی چلا رہے تھے کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ بن گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ انتہائی شدید تھا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
محمد وشاح کی شہادت کے بعد اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اسرائیلی جارحیت کا شکار ہونے والے فلسطینی صحافیوں کی کل تعداد 262 ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا واچ ڈگز اور صحافتی تنظیموں نے اسے صحافت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا ہے۔
بیروت: لبنان کے مختلف شہروں پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جانی نقصان کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ لبنان سول ڈیفنس کی رپورٹ کے مطابق، آج ہونے والے حملوں میں کم از کم 254 افراد شہید اور 1,165 زخمی ہوئے ہیں۔
شہروں کے اعتبار سے جانی نقصان کی تفصیل کے مطابق بیروت: 92 شہید، 742 زخمی،ضاحیہ (بیروت کے جنوبی مضافات): 61 شہید، 200 زخمی،نبطیہ: 28 شہید، 59 زخمی،بعلبک: 18 شہید، 28 زخمی،صور (Tyre): 17 شہید، 68 زخمی،ضلع عالیہ (Aley): 17 شہید، 6 زخمی،
صیدا: 12 شہید، 56 زخمی ، ہرمل: 9 شہید، 6 زخمی ہوئے۔
لبنانی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد اور شدید زخمیوں کی وجہ سے اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بیروت میں حالیہ اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو انتباہ دیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے فوری طور پر بند نہ کیے گئے تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جس پر وہ پچھتائے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے بیروت میں ہونے والے جانی نقصان کو “سفاکانہ قتلِ عام” قرار دیا ہے۔
IRGC کا کہنا ہے کہ اگر “ہمارے پیارے لبنان” پر جارحیت فوری طور پر نہ رکی تو خطے میں موجود “شریر حملہ آوروں” کو سخت ترین جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران خاموش نہیں رہے گا اور اسرائیل کے اقدامات کے نتائج خود اسرائیل کے لیے عبرت ناک ہوں گے۔
ریاض/لندن : ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے محض چند گھنٹوں بعد ہی ایرانی حملوں نے عالمی سطح پر توانائی کے بدترین بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق صنعت سے وابستہ باخبر ذرائع نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ایران نے سعودی عرب کی اہم ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ پائپ لائن اس وقت سعودی عرب کے لیے خام تیل کی برآمد کا واحد فعال راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب مشرقی علاقوں سے یانبو کی بندرگاہ تک یومیہ 70 ملین بیرل تیل اسی پائپ لائن کے ذریعے منتقل کر رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پائپ لائن کے علاوہ مملکت کی دیگر تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ ’ہم اُن میں سے ہر ایک (فوجی) کے شکر گزار ہیں اور اُن کے نقصان پر سوگ مناتے رہیں گے۔‘
جنرل کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی اہداف کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایران کی بیلسٹک میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنا، ایران کی بحریہ کو ختم کرنا اور اس کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ اُن کے مطابق 38 دنوں پر محیط کارروائی کے دوران امریکی مشترکہ افواج نے یہ تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
انھوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ’جنگ بندی محض ایک وقتی وقفہ ہوتی ہے۔‘
جنرل کین نے مزید کہا کہ امریکی افواج کو ’اگر حکم دیا گیا یا ضرورت پڑی تو دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، اسی رفتار اور درستگی کے ساتھ جس کا مظاہرہ گذشتہ 38 دنوں میں کیا گیا، اور ہمیں امید ہے کہ ایسا نہ کرنا پڑے۔‘
اپنے خطاب میں جنرل کین نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں کی جانے والی ریسکیو کارروائی پر بھی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مار گرائے گئے دو امریکی لڑاکا طیاروں کے پائلٹس کو بچانے کے لیے کی جانے والی یہ کارروائی آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی فوج کی جرات اور بہادری کی ’بڑی مثال‘ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک ایسی داستان ہے جو بطور مشترکہ فوج ہماری شناخت کے دل اور روح تک پہنچتی ہے۔‘
جنرل کین کے مطابق مشترکہ افواج کی شاندار کارکردگی ایک دوسرے کے ساتھ ان کی ’گہری وابستگی‘ کا نتیجہ تھی، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات پر ’حیران نہیں تھے‘ کہ فوجیوں نے اس آپریشن کے دوران کیا کچھ انجام دیا۔
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے لبنان میں اپنی زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد سے بدھ کے روز ’سب سے بڑے حملے‘ کیے ہیں، دوسری جانب لبنانی میڈیا نے ملک بھر میں متعدد مقامات پر اسرائیلی بمباری کی اطلاعات دی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’10 منٹ کے مختصر وقت میں بیک وقت لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے تقریباً 100 ہیڈ کوارٹرز اور فوجی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ’ہر موقع سے فائدہ اٹھائے گی‘ اور حزب اللہ پر حملے جاری رکھے گی۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بغیر رُکے یہ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘
اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک بڑی لہر کے بعد لبنان بھر میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ متعدد افراد کے منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے ان حملوں کو اس تنازع کے دوران ’حملوں کی سب سے بڑی لہر‘ قرار دیا ہے۔
یہ حملے بیروت کے جنوبی مضافات، جنوبی لبنان اور مشرقی وادی بقاع تک پھیل گئے ہیں۔
بیروت: لبنان کے وزیرِ اعظم نے اسرائیلی فضائی حملوں کی بڑی لہر کے بعد ’لبنان کے تمام دوست ممالک‘ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو ’تمام دستیاب ذرائع سے‘رکوانے میں مدد کریں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان دیتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کہا کہ ’اسرائیل اپنی جارحیت کا دائرہ مسلسل وسیع کر رہا ہے، جس کے تحت گنجان آباد رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور لبنان کے مختلف حصوں، بالخصوص دارالحکومت بیروت میں، نہتے شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔‘
ان کی یہ اپیل اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائی کے آغاز کے بعد آج لبنان بھر میں ’سب سے بڑے حملے‘ کیے ہیں۔
نواف سلام نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے بین الاقوامی قانون کے لیے ’مکمل بے اعتنائی‘ کا اظہار ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’لبنان کے تمام دوستوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے ہر دستیاب ذریعے سے ہماری مدد کریں۔‘
دوسری جانب مغربی ممالک کے ایک گروپ نے ایران میں ’تیز رفتار اور دیرپا امن‘ کی اپیل کرتے ہوئے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مکمل پابندی کریں، جس میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔
اس مشترکہ بیان پر برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز اور سپین کے رہنماؤں کے علاوہ یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے نمائندوں کے دستخط موجود ہیں۔
بیان میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور پاکستان اور دیگر ثالثوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنھوں نے ’اس اہم معاہدے کو ممکن بنانے میں سہولت کاری‘ کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آئندہ چند دنوں میں جنگ کے فوری اور دیرپا خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ یہ صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ ہم ایک بامعنی اور مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے حل کی طرف تیز پیش رفت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایران کی شہری آبادی کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔‘
آخر میں بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، بشمول لبنان میں۔‘
تل ابیب: اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان بھر میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر اچانک حملوں میں سینکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے بعد اب ’اُن کی باری‘بھی آئے گی۔
اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے نعیم قاسم کو خبردار کیا تھا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے عوض حزب اللہ کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی—اور آج ہم نے اس وعدے کی ایک اور تکمیل کر دی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سرکردہ دہشت گرد نعیم قاسم کی باری بھی آئے گی۔‘
ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں وسیع پیمانے پر حملے جاری رہنے کے تناظر میں اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ’ایران اور لبنان کے محاذوں کو الگ رکھنے‘ پر زور دیا ہے، تاکہ ’لبنان میں زمینی حقیقت کو تبدیل کیا جا سکے اور اسرائیل کے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔‘
سلام آباد / تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اسرائیل کی جانب سے لبنان اور ایران میں مبینہ طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹیلی گرام’ پر جاری کردہ ایک بیان میں اس گفتگو کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں اور خطے میں امن کو لاحق خطرات پر بات چیت ہوئی۔
عباس عراقچی نے علاقائی امن و سلامتی کے استحکام اور جاری جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کے “موثر کردار” کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ تہران خطے میں تناؤ کو کم کرنے اور استحکام لانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل لبنان اور ایران کے حوالے سے طے شدہ جنگ بندی کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اسلامی ممالک اور عالمی برادری کا فعال ہونا ضروری ہے۔
ریاض/دبئی: امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے چند ہی گھنٹوں بعد سعودی عرب سمیت متعدد خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مملکت کی فضائی حدود میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران 9 ڈرونز کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے مختلف مقامات پر 9 مسلح ڈرونز کو کامیابی سے انٹرسیپٹ کر کے تباہ کر دیا۔
دیگر ممالک کی صورتحال: بحرین، متحدہ عرب امارات (UAE) اور کویت نے بھی اپنے علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی رپورٹ دی ہے۔ ان حملوں میں حساس تنصیبات اور سویلین علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی ثالثی کے بعد دو ہفتوں کے لیے “ڈبل سائیڈڈ” جنگ بندی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایک نیا اقتصادی محاذ کھولتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک پر بھاری تجارتی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا جو ملک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو فروخت کی جانے والی کسی بھی اور تمام اشیاء پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ اس میں کوئی چھوٹ یا استثنیٰ نہیں ہوگا۔
واشنگٹن/اسلام آباد : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی انتظامیہ کے سخت موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تہران کو اب مزید یورینیم افزودہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک حالیہ پیغام میں لکھا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ، ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا جس کے بارے میں ہم نے طے کیا ہے کہ وہاں ایک نہایت نتیجہ خیز ‘حکومت کی تبدیلی ہو چکی ہے! اب یورینیم کی کوئی افزودگی نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہاکہ مریکہ ایران کے ساتھ مل کر زمین میں گہرائی میں دبے تمام جوہری ‘کچرے’ کو کھود کر نکالے گا اور اسے ختم کر دے گا۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان جمعہ کے روز اسلام آباد میں شیڈول امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات سے ٹھیک پہلے سامنے آیا ہے۔ ان مذاکرات کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا ہے۔
تہران: ایران کی ایلیٹ فورس، سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمنوں نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو ہمارا ہاتھ تاحال ‘ٹریگر’ پر ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فورس ملک کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے احکامات کی مکمل پاسداری کر رہی ہے، تاہم فورس کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے پوری طرح الرٹ ہے۔
ایرانی فورس کا کہنا ہے کہ دشمن ہمیشہ سے “دھوکے باز” رہا ہے، اس لیے امریکہ اور اسرائیل کے وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور اعلیٰ سطح کا ہوگا۔
آئی آر جی سی (IRGC) نے واضح کیا کہ ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ کسی بھی لمحے کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
واشنگٹن: ایران امریکا جنگ بندی کے بعد 2 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے۔
میری ٹائم مانیٹر میرین ٹریفک کے مطابق ایران امریکا جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے 2 جہاز گزرے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز یونان اور لائبیریا کے ہیں۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سیز فائر کے اعلان کے بعد ابھی تک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کم ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے اعداد و شمار میں بہت کم نقل و حرکت دکھائی دی ہے۔
امریکی شپنگ ٹریکنگ ایڈوائزر نے کہا ہے کہ سیز فائر پہلا قدم ہے، جس کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز میں کمرشل شپنگ فوری نارمل ہو جائے گی، جہازوں کے مالکان حفاظتی چینلز، فلیگ اسٹیٹس، وار رسک انشوررز کی رہنمائی کے منتظر ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور میں رہنے والے لوگوں کے لیے انخلا کا نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ’اپنے گھر فوری طور پر خالی کریں‘ اور ’اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے‘ دریائے زہرانی کے شمال میں چلے جائیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملوں کو معطل کرنے کے مشروط فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔

ایران امریکہ اور اسرائل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا۔
سونا 3.59 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 828 ڈالر فی اونس کا ہوگیا جبکہ چاندی کی قیمت میں 7.63 فیصد اضافہ، 77 ڈالر فی اونس پر فروخت جاری ہے۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی نے کہا ہے کہ ایران کے مخالفین کی مدد کرنے والے افراد کے مقدمات کی سماعت تیز کی جائے اور جلد از جلد فیصلے جاری کیے جائیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی سکیورٹی اداروں نے سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر مخالفین کی مدد کرنے کے الزامات ہیں،جن میں اہم ویڈیوز غیر ملکی مخالف چینلز کے ساتھ شیئر کرنا یا حملوں کی حمایت کا اظہار کرنا شامل ہیں۔
یہ اقدامات ایران کی جانب سے سکیو رٹی اور عدلیہ کے سخت اقدامات کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کے خلاف ”دشمن کے منصوبوں” کا مقابلہ کر سکے۔

عمان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور پاکستان سمیت ان تمام فریقوں کی کوششوں کو سراہا ہے جو جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ “ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اب کوششوں کو مزید تیز کیا جائے تاکہ ایسے حل تلاش کیے جا سکیں جو بحران کو جڑ سے ختم کریں اور خطے میں جنگ اور دشمنی کی کیفیت کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ الارم سائرن بجا دیے گئے ہیں اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قریبی محفوظ مقام پر جائیں اور پرسکون رہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عراق میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔عراق کے دارالحکومت بغداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منا رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملے معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے، بشرطیکہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھول دے اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر تمام حملے بند کرے۔
دفتر نے مزید کہا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔
اسرائیل نے امریکہ کی اس کوشش کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے کہ ایران اب مزید جوہری، میزائل یا دہشت گردی کا خطرہ نہ بنے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ جن نکات پر مذاکرات کر رہا ہے وہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔
1.عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔
2.ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ، بغیر کسی وقت کی حد کے۔
3.پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔
4.آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔
5.آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔
6.ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔
7.ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
8.امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی فوری رہائی۔
9.ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔
10.مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔
یہ نکات اس فریم ورک کا حصہ ہیں جس پر ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے 38 دنوں میں تمام فوجی مقاصد حاصل کرلیے، ٹرمپ نے پہلے دن کہا تھا آپریشن ایپک فیوری 4 سے 6 ہفتےجاری رہےگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر چین لایا ہے۔
امریکی صدر نے خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ نے مکمل فتح حاصل کی، 100 فیصد فتح حاصل کی، اس بارے میں کوئی سوال نہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کےتحت ایران کے یورینیم کامعاملہ بہترین طریقےسےسنبھال لیا جائے گا، ایران کی یورینیم کو مکمل طور پر سنبھال لیا جائےگا ورنہ میں یہ معاہدہ نہ کرتا۔
عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے اتحاد اسلامی مزاحمت ان عراق نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عراق اور پورے خطے میں اپنی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے معطل رکھے گا۔
امریکی پینٹاگون نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے صحافیوں سے خطاب کریں گے۔
اس موقع پر وہ “آپریشن ایپک فیوری” کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔
عراق میں رات گئے حملوں میں بچوں سمیت سات افراد جاں بحق ہوگئے، حکام نے بتایا، اس سے قبل امریکہ اور ایران نے منگل کی شام دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔
بصرہ کے صوبائی کونسل کے رکن نے بتایا کہ “خور الزبیر شہر میں ایک گھر کو طیارے سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا، “پڑوسیوں کے مطابق اس گھر میں پانچ افراد رہتے تھے۔ لیکن اب تک صرف تین لاشیں ملی ہیں۔ ایک سیکورٹی اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ خور الزبیر میں ایک گھر پر میزائل حملے میں تین شہری جاں بحق ہوئے۔
منگل کی دیر شام بغداد میں ایک آٹھ سالہ بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے جب ان کے گھر میں ایک پروجیکٹائل گر کر آگ لگ گئی۔

جنگ بندی کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے محصولات لیں گے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ایران ان فنڈز کو تعمیرنو کے لیےاستعمال کرےگا، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا ہوا تو یہ ایران کی بڑی کامیابی تصور کی جائےگی۔
خبر ایجنسی کے مطابق عمان کے منصوبےغیر واضح ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے کہا ہےکہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے تمام میزائل یونٹوں کو فائرنگ بندکرنےکاحکم دےدیا۔
ایران جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے تہنیتی پیغام جاری کیا اور کہا کہ پاکستان کا خاموش اور مؤثر سفارتکاری کا شکریہ کہ پاکستان نے اس اہم سیز فائر میں کردار ادا کیا۔

جاپان کا نکئی 5 فیصد اضافے سے 55960 پر ٹریڈ کررہاہے، کورین کاسپی 6.25 فیصد اضافے سے 872 پر ہے جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈی جے 2.5 فیصد، آسٹریلیا کا اے ایس ایکس 2.65 فیصد بڑھ گیا۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بہت اہم موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری مکالمے کے لیے راہ ہموار ہو۔
وزارت نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو مکمل عزم کے ساتھ بنیاد بنانی چاہیے، جس میں “فوجی کارروائیوں کو روکنا اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کا احترام” شامل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مصر پاکستان اور ترکی کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھے گا، اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں خلیجی ممالک کی جائز حفاظتی خدشات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

ایران میں جنگ بندی کے اعلان پر تہران میں جشن کا سماں ہے لوگوں کو سڑکوں پر جشن مناتے اور ایرانی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور تصدیق شدہ ویڈیوز میں شہری خوشی کا اظہار کرتے، پرچم لہرائے اور ایک دوسرے کے ساتھ جشن مناتے دکھائی دے رہے ہیں۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے شہر صیدون پر اسرائیلی حملے میں 8 افراد جاں بحق جبکہ 22 زخمی ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ العربیہ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ حملہ کب کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بیان شیئر کیا ہے جس میں امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔
جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا کہ عراقچی نے تہران کی جانب سے پاکستان اور اس کی قیادت کی “مسلسل کوششوں” پر شکریہ کا اظہار کیا، جن کا مقصد خطے میں جنگ کا خاتمہ تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے سکیورٹی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ ایران جنگ بندی معاہدے میں لبنان میں شامل ہے۔
عراقی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے کشیدگی میں کمی آئے گی اور خطے میں امن و استحکام مضبوط ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بحرانوں کو قابو میں رکھنے، مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، اور جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد اور کسی بھی قسم کی کشیدگی سے گریز کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران پر بمباری روک دی ہے اور وہ بھی مذاکرات میں شامل ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کردی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ ممکن ہوگی، جس کے لیے ایران کی مسلح افواج سے ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کا خیال رکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی برادرانہ درخواست، امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پر مذاکرات کی خواہش، اور امریکی صدر کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کے عمومی فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری طاقتور مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔‘
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ایران کی جانب سے میں اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی انتھک کوششوں پر دلی تشکر اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔
ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے دو ہفتے کے جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق روک دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشروط دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 5.8 فیصد کمی کے بعد 103.42 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 8.5 فیصد گر کر 103.25 ڈالر فی بیرل رہی۔
تاہم یہ قیمتیں اب بھی اس سطح سے کہیں زیادہ ہیں جو 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے تھیں۔
حماد بن خلیفہ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے پروفیسر سلطان برکت نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی بیان بازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر اسرائیل ایک جوہری حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہامیرا خیال ہے کہ سب کے لیے ایک حیران کن بات ہو سکتی ہے، جیسے اسرائیل کی طرف سے محدود پیمانے پر ایک ٹیکٹیکل جوہری حملہ، صرف اس لیے کہ اسرائیل خود کو ایک جوہری طاقت کے طور پر سامنے لا سکے۔
پروفیسر سلطان کے مطابق ،یہ خیال ٹرمپ کے ان بیانات سے مطابقت رکھتی ہے کہ ایک ‘بڑا سرپرائز’ ہونے والا ہے، اورتہذیب کو مٹا دیا جائے گا وغیرہ۔
“ان کے پاس (جوہری صلاحیت)موجود ہے اور وہ اسے ایک قسم کی رکاوٹ (ڈیٹرنس) کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں.
واضح رہے کہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں میں دھماکے کی طاقت نسبتاً کم ہوتی ہے اور یہ میدانِ جنگ میں استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
پروفیسر سلطان برکت نے مزید کہا ہے کہ میرا خیال ہے اب اسرائیل سوچ رہا ہے کہ انہیں خود کو ایک جوہری طاقت کے طور پر سامنے لانا ہوگا، لیکن انہیں اسے محدود طریقے سے ظاہر کرنا ہوگا — اور اس طرح سے کہ پورے علاقے میں بڑا زوال (fallout) نہ ہو۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے انکار کیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی منصوبہ ہے۔
امریکی صدر کو پاکستان کی تجویز سے آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں بریفنگ دی جا رہی ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کی جنگ کے حوالے سے گرم جوش مذاکرات میں مصروف ہے، اور انہوں نے ان بات چیت کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
میں آپ کو نہیں بتا سکتا، کیونکہ ابھی ہم گرم جوش مذاکرات میں ہیں، ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ایک مختصر فون انٹرویو میں کہا جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ بات چیت کے بارے میں کیسا محسوس کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز کردہ دو ہفتوں کی سیز فائر کے بارے میں مکمل طور پر بریف ہونے والے ہیں —ٹرمپ نے فاکس نیوز کو مزید بتایا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ ایک انتہائی قابل احترام آدمی ہیں، ہر جگہ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز پر ایران سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں۔
بصرہ : عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے سرحدی علاقے الزبیر میں ایک مبینہ امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم 3 شہری جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع اور ہسپتال حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
نشانہ: میزائل الزبیر کے علاقے میں ایک زرعی گودام، رہائشی مکان اور ایک نخلستان (Orchard) پر گرا۔ حملے میں دو پک اپ ٹرکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ رہائشی مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق میزائل کویت کی سرحد کی جانب سے داغے گئے۔
ریاض: سعودی عرب کے مشرقی صوبے (ایسٹرن پروونس) میں سکیورٹی الرٹس اور ایرانی حملوں کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والے کلیدی پل ‘کنگ فہد کاز وے’ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
کنگ فہد کاز وے اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ “احتیاطی تدبیر” کے طور پر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے میں ہائی الرٹ جاری ہونے کے بعد گاڑیوں کی آمد و رفت کو معطل کرنا ضروری تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ آج کے دن میں یہ دوسری بار ہے جب اس اہم ترین گزرگاہ کو بند کیا گیا ہے۔ اس سے قبل آج صبح سویرے ایرانی حملوں کے بعد پل کو مختصر وقت کے لیے بند کیا گیا تھا، جسے حالات سازگار ہونے پر دوبارہ کھول دیا گیا تھا، تاہم تازہ خطرات کے باعث اسے ایک بار پھر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
بغداد: عراق کی طاقتور مسلح تنظیم کتائب حزب اللہ نے اغوا کی گئی امریکی فری لانس صحافی شیلی کٹلسن (Shelly Kittleson) کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم اس رہائی کے لیے فوری طور پر ملک چھوڑنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
کتائب حزب اللہ کے سیکورٹی عہدیدار، ابو مجاہد الاصف نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم کے قومی موقف کو تسلیم کرتے ہوئے، ہم نے امریکی ملزمہ شیلی کٹلسن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس شرط پر کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں گی۔
گروپ کی جانب سے اس اقدام کو ایک “مستثنیٰ موقع” قرار دیا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسی کسی نرمی کی توقع نہ رکھی جائے۔
شیلی کٹلسن کو گزشتہ ہفتے (31 مارچ 2026) بغداد کے علاقے سعدون اسٹریٹ سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ایک سڑک کنارے کھڑی تھیں۔
تہران: پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے جبیل میں ایک پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا، یہ بیان ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور میزائل حملہ ایران میں پیر کے روز پیٹرو کیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیا گیا۔
یہ رپورٹ اس سے قبل اے ایف پی نیوز ایجنسی کی جانب سے بھی سامنے آئی تھی جنھوں نے عینی شاہدین سے بات کی۔
اے ایف پی کے مطابق حملے کے نتیجے میں کمپلیکس میں آگ لگی اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
دن کے آغاز میں کئی ایرانی میڈیا اداروں، بشمول فارس، نور، اور تسنیم نے بھی آگ لگنے کی رپورٹ دی اور ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کمپلیکس میں آگ دکھائی گئی۔
بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے، اور سعودی عرب کی حکام نے ابھی تک ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ آج رات 8 بجے سے پہلے ایران سے جواب مل جائے گا۔
واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران دنیا کو زیادہ سے زیادہ معاشی تکلیف دینا چاہتا ہے، اگر ایران معاشی تکلیف چاہتا تو امریکا زیادہ تکلیف دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مذاکرات کار نہ پہلے مذاکرات میں تیز تھے نہ اب ہیں، ثالثوں کے ذریعے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ اندازہ ہے کہ پیغامات ایران میں ایک سے دوسرے تک پہنچنے میں وقت لیتے ہیں، توقع ہے کہ آج رات 8 بجے سے پہلے ایران کا جواب مل جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ خواہش ہے کہ ایران سے مثبت جواب ملے، ایران کا جواب مثبت نہ ہوا تو امریکا اور اتحادی اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں، دیگر ممالک کے ذریعے ایران کو واضح پیغامات بھیجے گئے ہیں۔
تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ تحمل کا وقت ختم ہو گیا، امریکہ سرخ لکیر عبور کرتا ہے تو ردعمل خطے سے باہر ہو گا۔امریکہ، اس کے شراکت داروں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے، امریکہ اور اس کے اتحادی برسوں خطے کے تیل اور گیس سے محروم رہیں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکہ کے علاقائی شراکت داروں کو جان لینا چاہیے کہ ہم نے ہمسائیگی کی خاطر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ کے احمق رہنماؤں نے اپنے تمام مفادات یہودیوں کے قدموں پر قربان کر دیئے، امریکی رہنما نہیں جانتے کہ ان کے کتنے بڑے اثاثے ہماری رینج میں ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ 1 کروڑ 40 لاکھ سے زائد قابلِ فخر ایرانیوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر نے صدر ڈنلڈ ٹرمپ کو ’’ذہنی طور پر غیر متوازن پاگل شخص‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہےکہ انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔
ایکس (X) پر ایک پوسٹ میںانہوں نے کہا کہ یہ سب قابلِ قبول نہیں ۔ 25ویں آئینی ترمیم نافذ کریں۔ مواخذہ کریں۔ عہدے سے ہٹائیں۔ اس غیر متوازن پاگل شخص کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہے۔
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی مسلمان قانون ساز نے یہ بات صدر کی پوسٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہی، جو انہوں نے ٹروتھ سوشل پر شیئر کی تھی، جس میں ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔
شارجہ : متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں منگل کے روز ایران سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل نے ‘ثریا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی’ (Thuraya Telecommunications Company) کی انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو پاکستانی شہری زخمی ہو گئے۔
اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ (WAM) اور شارجہ گورنمنٹ میڈیا بیورو کے مطابق، یہ حملہ شارجہ کے سینٹرل ریجن میں واقع ٹیلی کام کمپنی کی عمارت پر ہوا۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ میزائل براہ راست عمارت کے انتظامی حصے سے ٹکرایا۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
دفاعی نظام کی کارکردگی: متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق، اماراتی فضائی دفاعی نظام نے آج کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل اور 11 ڈرونز کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کیا۔ تاہم اس مخصوص واقعے میں میزائل کا ملبہ یا اس کا کچھ حصہ شہری آبادی میں موجود اس تنصیب پر گرا۔
بیروت/تل ابیب: لبنان میں جاری زمینی و فضائی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، جہاں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید 36 اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی عسکری ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں درجنوں اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
جنگ کے آغاز سے اب تک کے نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی مجموعی تعداد 411 تک پہنچ گئی ہے۔
زخمیوں میں سے 27 اہلکاروں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
60 فوجی درمیانی درجے کے زخموں کا شکار ہیں۔
لندن: برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (ایم ٹی او) کے مطابق ایران کے جزیرۂ کیش کے جنوب میں ایک کارگو جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
جزیرۂ کیش ایران کے جنوبی ساحل کے قریب ہرمزگان صوبے میں واقع ہے۔
ایم ٹی او کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں جہاز کے ان حصوں کو نقصان پہنچا ہے جو ’پانی کی سطح سے اوپر‘ ہیں، جبکہ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا ہے۔
ایران کے خارگ جزیرے پر دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً ساری تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے۔امریکی نشریاتی ادارے نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جزیرے پر کئی دھماکے ہوئے ہیں، تاہم اس نے مزید کوئی تفصیلات نہیں دیں۔
تہران:ایران کی مہر نیوز ایجنسی (Mehr News Agency) کے مطابق اسرائیل نے وسطی ایران کے شہر کاشان میں ایک تزویراتی ریلوے پل کو نشانہ بنایا ہے۔ حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
صوبہ اصفہان کے ڈپٹی گورنر نے حملے اور اس میں ہونے والے جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی فوج نے باقاعدہ طور پر ایرانی شہریوں کے لیے ایک انتباہ (Warning) جاری کیا تھا۔
حملے سے قبل اسرائیلی فوج کے فارسی زبان کے سوشل میڈیا چینلز پر ایک ہنگامی پیغام نشر کیا گیا تھا جس میں ایرانی شہریوں کو اپنی حفاظت کی خاطر مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے تک ٹرینوں کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
پیغام میں واضح کیا گیا تھا کہ ریلوے ٹریکس یا ٹرینوں کے قریب موجودگی شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
شہد/تہران:ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی شہر مشہد کے گورنر نے شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن سے تمام ٹرینوں کی روانگی فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر‘ کے مطابق، یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی شہریوں کو دی جانے والی اس وارننگ کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہیں ریلوے لائنوں اور ٹرینوں کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹرینوں میں آپ کی موجودگی یا ریلوے ٹریک کے قریب ہونا آپ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
شہد کے گورنر حسن حسینی کا کہنا ہے کہ ٹرینوں کی منسوخی ایک احتیاطی تدبیر ہے اور یہ معطلی “اگلے حکم تک” برقرار رہے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ انتباہ آج رات (منگل) تک کے لیے دیا گیا ہے، کیونکہ خطے میں فوجی نقل و حرکت اور حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔