ایران جھوٹے وعدوں کے جال میں پھنس چکا ہے، روس

ایران کو ماضی میں بھی اسی طرح کے معاہدوں کے ذریعے محدود کیا گیا لیکن اسے مطلوبہ ثمرات نہ مل سکے۔روسی وزیر خارجہ

               
April 21, 2026 · |
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ماسکو: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس ان مذاکرات میں صرف “دھمکیاں اور وعدے” دیکھ رہا ہے، جبکہ زمینی طور پر کوئی ٹھوس حقائق سامنے نہیں آ رہے ہیں۔

روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق، ایک حالیہ بیان میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایران کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ وہ پہلے بھی عالمی طاقتوں کے ‘جھوٹے وعدوں’ کے جال میں پھنس چکا ہے۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو ماضی میں بھی اسی طرح کے معاہدوں کے ذریعے محدود کیا گیا لیکن اسے مطلوبہ ثمرات نہ مل سکے۔

روسی وزیر خارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ سفارتی رابطوں اور ممکنہ نئے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ روس ان تمام پیش رفتوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ خطے کی صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے اور یہاں حالات 24 گھنٹوں کے دوران 10 بار پلٹا کھا سکتے ہیں۔

لاوروف نے واضح کیا کہ روس ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں کی موجودہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کوششیں 2015 کے معاہدے جیسی کسی ٹھوس شکل میں سامنے آتی ہیں، تو روس اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے گا۔