ٹرمپ کی متنازع ’زمین پر جہنم‘ سے متعلق پوسٹ پر انڈیا کا سخت ردعمل
وزیراعظم نریندر مودی ٹرمپ سے بات کر کے سخت اعتراض درج کرائیں۔ اپوزیشن کانگریس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک حالیہ پوسٹ میں امریکہ میں پیدائش پر شہریت کے حق سے متعلق ایسا بیان ’ری پوسٹ‘ کیا ہے جس پرانڈیا میں اپوزیشن جماعتوں اور صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے کہا کہ امریکی صدر کے ذریعہ بھارت کو ’جہنم‘ بتانا ہتک آمیز ہے۔ اس بات کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کو امریکی صدر سے بات کرنی چاہیے اور سخت اعتراض درج کرانا چاہیے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی ریڈیو میزبان مائیکل سیویج کا ایک خط دوبارہ پوسٹ کیا ہے، جس میں بھارت اور کچھ دیگر ممالک کو ’ جہنم‘ ٹھہرایا گیا ہے۔ اس خط میں امریکہ کی پیدائشی شہریت قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے نسل پرستانہ تبصرے کیے گئے ہیں۔ اس معاملہ میں بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے پی ایم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں امریکی صدر سے بات کریں۔
کانگریس نے یہ مطالبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کیا ہے۔جس میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بھارت کو ’ جہنم‘ بتایا ہے۔ یہ بات بے حد ہتک آمیز ہے اور بھارت مخالف ہے۔ ہر بھارتی کو اس سے تکلیف ہوئی ہے۔ اس بات کے لیے پی ایم مودی کو امریکی صدر سے بات کرنی چاہیے اور سخت اعتراض درج کرانا چاہیے۔ کانگریس نے آگے لکھا ہے ’’حالانکہ جس حساب کا نریندر مودی کا ٹریک ریکارڈ رہا ہے، ایسے میں یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ ٹرمپ کے آگے مودی کچھ بول پائیں گے۔
کانگریس نے ایکس پر جاری پوسٹ میں مزید کہا ہے کہ ٹرمپ لگاتار بھارت کے لیے ہتک آمیز باتیں کرتے ہیں اور مودی خاموشی سنتے رہتے ہیں، یہ مناسب نہیں ہے۔ پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ ’’نریندر مودی ایک کمزور وزیر اعظم ہیں اور اس کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ساتھ چین اور کچھ دیگر ممالک کو بھی ’ جہنم‘ نشان قرار دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی ریڈیو میزبان مائیکل سیویج کے جس طویل نوٹ کو امریکی صدر نے شیئر کیا ہے، اس میں امریکہ کی عدالت میں پیدائشی شہریت کو لے کر چل رہی بحث پر رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ انھوں نے غیر شہریوں کے بچوں کو پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کے الزام کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملہ پر عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ قومی ریفرینڈم ہونا چاہیے۔ خط میں سیویج نے دعویٰ کیا کہ دوسرے ممالک کے لوگ امریکہ آ کر نویں مہینے میں بچہ پیدا کرتے ہیں اور اس سے انھیں فوراً شہریت مل جاتی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’’یہاں پیدا ہونے والا بچہ فوراً امریکی شہری بن جاتا ہے، اور پھر وہ اپنی پوری فیملی کو چین، بھارت یا دنیا کے کسی ’ہیل ہول‘ سے یہاں لے آتے ہیں۔‘‘ خط میں بھارت اور چینی مہاجروں سے متعلق قابل اعتراض زبان کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔
ریڈیو میزبان مائیکل سیویج کے خط کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے اس بیان کے ایک دن بعد شیئر کیا ہے، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی ملک پیدائشی شہریت نہیں دیتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 3 درجن ممالک یہ سہولت دیتے ہیں، جن میں کینیڈا، میکسیکو اور جنوبی امریکہ کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔