امریکہ کے میزائل ذخائر کم۔ ایشیا اور یورپ سے مشرق وسطیٰ منتقلی
امریکہ نے اندازاً 1,100 طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹیلتھ کروز میزائل استعمال کیے
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہدف میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی آگئی ہے، کیونکہ انہیں ایشیا اور یورپ سے مشرق وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد امریکہ نے اندازاً 1,100 طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹیلتھ کروز میزائل استعمال کیے ہیں، جو پہلے چین کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے محفوظ رکھے گئے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع اور کانگریس حکام کے مطابق ان میں 1,000 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل، پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل، اور دیگر زمینی حملہ آور آرمی ٹیکٹیکل میزائل شامل ہیں۔
طلب پوری کرنے کے لیے امریکی فوج نے ایشیا اور یورپ میں موجود اڈوں سے اسلحہ منتقل کیا ہے، جس سے ان خطوں میں ممکنہ خطرات کے خلاف تیاری پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کا مہنگے میزائلوں پر انحصار بڑھ رہا ہے اور یہ خدشہ موجود ہے کہ دفاعی صنعت فوری طور پر پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔