پاکستان کا سلامتی کونسل سے سندھ طاس معاہدہ بحال کرانے کا مطالبہ

بھارت کی جانب سے 1960 کے تاریخی سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کا نوٹس لے

               
April 24, 2026 · بام دنیا

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے 1960 کے تاریخی سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کا نوٹس لے اور اسے فوری طور پر بحال کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ معاہدے کی معطلی سے خطے میں 240 ملین سے زائد افراد کے لیے سنگین سلامتی، ماحولیاتی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحا ق ڈار نے سلامتی کونسل کی موجودہ صدر بحرین کےمندوب کو ایک خط ارسال کیا تھا ، جس میں بھارت کے فیصلے کو “غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تشویش ظاہر کی گئی تھی ۔ یہ خط اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو پیش کیا۔

پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو پانی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد، ڈیٹا شیئرنگ اور تعاون بحال کرنے پر مجبور کیا جائے اور کسی بھی قسم کی آبی دباؤ کی پالیسی سے روکا جائے۔پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کو یہ بھی بتایا کہ بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے، جو علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہے۔