اسلام آباد مذاکرات میں ممکنہ معاہدے پر امریکی نائب صدر تیار
جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کو پیش رفت پر بلایا جا سکتا ہے
واشنگٹن میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جے ڈی وینس کو اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے دوران فی الحال پس منظر میں رکھا گیا ہے، تاہم حقیقت اس سے مختلف بتائی جا رہی ہے۔جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کو پیش رفت پر بلایا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکہ ایران کے مؤقف کو سننا چاہتا ہے، اور اگر مذاکرات میں کوئی ٹھوس اور اہم پیش رفت سامنے آتی ہے تو جے ڈی وینس کے ساتھ ساتھ مارکو روبیو کو بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اسلام آباد بلایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سفارتی آداب بھی اس معاملے میں اہم ہیں، کیونکہ نائب صدر کی شرکت کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات میں مساوی حیثیت کے رہنما شامل ہوں تاکہ ان کی آمد مؤثر ثابت ہو۔
امریکہ کی جانب سے چند بنیادی نکات واضح ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی پراکسی گروپس کی حمایت، افزودہ یورینیم کے مستقبل اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے معاملات پر بھی بات چیت چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں اس اہم گزرگاہ کی بندش جیسے حالات سے بچا جا سکے۔
یہ مذاکرات دراصل ابتدائی نوعیت کے ہیں، جن کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا کسی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد موجود ہے یا نہیں۔