امریکی وزیر دفاع کا ایران کے خلاف جنگ میں ’فیصلہ کن فتح‘ کا دعویٰ

فوجی بجٹ میں اضافے کی درخواست موجودہ صورتحال کی سنگینی کی عکاس ہے، پیٹ ہیگستھ

               
April 29, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایوانِ نمائندگان کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں “یقینی طور پر” جیت رہا ہے۔ انہوں نے حالیہ فوجی کارروائیوں کو ایک “حیران کن فوجی کامیابی” قرار دیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ یہ جنگ جیت رہا ہے، تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں “بالکل” کہا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے چند ہی ہفتوں میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 دورانِ سماعت جب ان سے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے خطرے اور اس سے پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران پر سوال کیا گیا، تو ہیگستھ نے جواب دیا کہ پینٹاگون نے “اس خطرے کے تمام پہلوؤں کا پہلے سے جائزہ لیا تھا”۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت عالمی سطح پر ایران کی بحری ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ اس کی تیل کی برآمدات کو روکا جا سکے۔

اگرچہ ہیگستھ نے اسے کامیابی قرار دیا، لیکن ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیے گئے اس تنازع پر سخت تنقید کی۔

کمیٹی کے رکن ایڈم اسمتھ نے کہا کہ “آپ بہت سی چھوٹی جنگیں جیت کر بھی بڑی جنگ ہار سکتے ہیں،” انہوں نے خبردار کیا کہ محض طاقت کا استعمال ایک خطرناک حکمت عملی ہے۔

ہیگستھ نے جواب میں ناقدین کو “شکست خوردہ ذہنیت” کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عزم غیر متزلزل ہے اور صدر ٹرمپ کا مقصد ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا ہے۔

ہیگستھ اس موقع پر 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے تاریخی دفاعی بجٹ کا دفاع بھی کر رہے تھے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے ایک “نئی نیٹو” کی ضرورت پر زور دیا جو صرف دفاع کے بجائے جنگی تیاریوں پر توجہ دے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کانگرس میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کو ’بروقت، باقاعدہ اور دیرپا سرمایہ کاری‘ کی ضرورت ہے۔

جنرل ڈین کین نے یہ بھی واضح کیا کہ آج کے بجٹ میں زیرِ بحث وسائل ہماری افواج کو جدید بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں کہ جو بھی خطرات سامنے آئیں۔۔۔ ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

انھوں نے موجود قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں تعینات امریکی فوجیوں کو مدنظر رکھیں۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ صدر کی جانب سے 1.5 ٹریلین ڈالر کے فوجی بجٹ کی درخواست ’موجودہ لمحے کی سنگینی‘ کی عکاسی کرتی ہے۔

کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے بائیڈن انتظامیہ پر دفاعی شعبے میں ناکافی سرمایہ کاری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کی وزارت نظام کے اس زوال کو پلٹ کر دوبارہ ملک کو ’جنگی تیاری‘ کی حالت میں لا رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ بجٹ ’تاریخی‘ اور ’جنگ لڑنے کی صلاحیت‘ پر مبنی ہے، اور وہ ایران کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی ’غیر معمولی کامیابی‘ پر بات کرنے کے منتظر ہیں۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کیے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت سب سے بڑے مخالف کانگریس کے کچھ ڈیموکریٹس اور چند ریپبلکنز کے ’حوصلہ شکن بیانات‘ ہیں، جو جنگ کے صرف دو ماہ بعد ہی اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا میری نسل جانتی ہے کہ ہم عراق میں کتنے عرصے رہے، اور افغانستان میں کتنی دیر تک جنگ جاری رہی۔

ایوانِ نمائندگان میں گفتگو کرتے ہوئے نمائندہ ایڈم اسمتھ نے رواں سال کے آغاز میں ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے میں ممکنہ امریکی کردار کا حوالہ دیا۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے ابتدائی مرحلے میں ہونے والے اس میناب حملے میں 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔

ایڈم اسمتھ نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ ہم سے ایک غلطی ہوئی، اور جنگ میں ایسا ہو جاتا ہے۔۔ لیکن واقعے کے دو ماہ بعد تک ہم نے اس پر کچھ کہنے سے انکار کیا، جس سے دنیا کو یہ تاثر ملا کہ ہمیں پروا نہیں۔‘

ایران نے اس حملے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔ تاہم دو ماہ گزرنے کے باوجود پینٹاگون کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے کہ پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین کو اس حملے سے متعلق حلف کے تحت سوالات کا سامنا کرنا پڑے۔

گذشتہ ماہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ سکول ایک امریکی حملے کی زد میں آیا، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، جہاں وہ فوج کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے بجٹ کی درخواست سے متعلق سوالات کے جواب حلف کے تحت دے رہے ہیں۔