ایران نے جنگ نہیں شروع کی۔ دفاعی حق استعمال کیا۔امیرسعید ایراوانی
تہران کا خلیجی ممالک کی جانب سے سکیورٹی کونسل کو بھیجے گئے خط کا جواب
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر قائم فوجی اڈے ایران کے خلاف جارحیت کے لیے فراہم کر کے اس میں حصہ لیا اور ان اڈوں سے ایران پر میزائل اور فضائی حملے کیے گئے۔
انھوں نے یہ بات خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے ان کی سرزمین پر کیے گئے مبینہ فوجی حملوں کے خلاف حالیہ احتجاجی خطوط پر ردِعمل دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے ایک خط میں کہی۔
اپنے خط میں ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران نے ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں دیے گئے اپنے جائز حقِ دفاع کو جارحیت کے جواب میں استعمال کیا۔
امیر سعید ایراوانی کے مطابق ’ایران نے اس تنازع یا جنگ کا آغاز نہیں کیا‘۔
ان کے بقول ’جو ممالک ایران کے خلاف جارحیت میں شریک ہوئے یا جنھوں نے اپنے فوجی اڈوں، فضائی حدود، علاقائی پانیوں اور سرزمین کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی، وہ ذمہ دار ہیں اور انھیں جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، کویت اور سعودی عرب کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے احتجاجی خطوط میں ایران پر ان کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور فوجی حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور ان حملوں کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔