تل ابیب میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف اسرائیلیوں کا احتجاج

جنوبی لبنان پر حملوں اور اندرونی سیاسی بحران کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

May 10, 2026 · بام دنیا

اسرائیل کے شہر تل ابیب میں درجنوں شہریوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت اور جنوبی لبنان پر جاری فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

یہ مظاہرے رات بھر جاری رہے، جن میں مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ملک میں اس وقت ایران اور لبنان کے ساتھ جاری کشیدگی اور اندرونی سیاسی اختلافات کے باعث عام انتخابات رواں سال کے آخر میں متوقع ہیں۔ ان اختلافات میں بعض انتہائی مذہبی یہودی گروہوں کا فوج میں شمولیت سے انکار بھی شامل ہے۔

83 سالہ ریٹائرڈ شہری ڈیوڈ الکان نے کہا کہ “میں یہاں حکومت کے خلاف احتجاج کر رہا ہوں، یہ ایک تباہ کن حکومت ہے۔ یہ غلط سمت میں جا رہی ہے اور عوام کو جھوٹی خبریں اور غلط بیانی سے گمراہ کیا جا رہا ہے، ہم اس کے خلاف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران دشمن ضرور ہے لیکن سب سے بڑا خطرہ اندرونی ہے، یعنی وہ لوگ جو فوج میں شامل نہیں ہوتے، ٹیکس ادا نہیں کرتے اور عوامی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔

احتجاج کی ویڈیو میں مظاہرین کے پلے کارڈز پر “نسل کشی بند کرو”، “7 اکتوبر کو مت بھولو” اور “بی بی اسکو بار” جیسے نعرے درج تھے، جس میں نیتن یاہو کو کولمبیا کے سابق منشیات کارٹیل سربراہ پابلو ایسکوبار کے نام سے تشبیہ دی گئی تھی۔