فلپائن کی نائب صدر سارا ڈوٹیرٹے کیخلاف دوسری بار مواخذے کی منظوری
پارلیمنٹ نے بدعنوانی اور دھمکیوں کے الزامات پر مواخذہ سینیٹ بھیج دیا
فلپائن کی نائب صدر سارا ڈوٹیرٹے نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر کے ساتھ تعلق اس قدر “زہریلا” ہو چکا ہے کہ وہ کبھی کبھار انہیں سر قلم کرنے کا تصور کرتی ہیں۔
فلپائن کے ایوانِ نمائندگان نے نائب صدر سارا ڈوٹیرٹے کے خلاف دوسری بار مواخذے کی منظوری دے دی ہے، جس سے ان کے 2028 میں صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے منصوبے کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
پیر کے روز ہونے والی ووٹنگ کے بعد مواخذے کا معاملہ سینیٹ میں ٹرائل کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جہاں اگر انہیں مجرم قرار دیا گیا تو سابق صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے کی بیٹی کو کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔
47 سالہ سارا ڈوٹیرٹے ابتدائی سرویز میں صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر کی ممکنہ جانشین کے طور پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، تاہم ان کے خلاف یہ مقدمہ سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور صدر مارکوس، ان کی اہلیہ اور سابق اسپیکر کے خلاف دھمکیوں سے متعلق ہے۔
انہیں انہی الزامات کے تحت 2025 میں بھی مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر اس عمل کو روک دیا تھا، جس کے بعد سینیٹ میں ٹرائل شروع نہ ہو سکا۔
اس سال کیس دوبارہ کھولا گیا اور گزشتہ ہفتے ایوان کی ایک کمیٹی نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مواخذے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے۔
سارا ڈوٹیرٹے نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے “صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا” قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف کارروائی سیاسی طور پر متاثر ہے۔ وہ کمیٹی کی سماعتوں میں بھی پیش نہیں ہوئیں۔
مواخذے کے بعد ان کے وکیل نے کہا کہ اب الزام لگانے والوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعوؤں کو قانون کے مطابق ثابت کریں۔
ایوان میں ووٹنگ مارکوس حکومت کی حمایت کا پیمانہ بھی سمجھی گئی، جہاں 290 میں سے 257 ارکان نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، جو ضروری ایک تہائی اکثریت سے کہیں زیادہ تھا۔
تاہم سینیٹ میں صورتحال غیر یقینی ہے کیونکہ وہاں فیصلے کا انحصار سیاسی اتحادوں اور بدلتی ہوئی وابستگیوں پر ہے۔ فلپائن کے سیاسی نظام میں یہ ووٹ آئندہ صدارتی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔