سعودیہ حجاز ریلوے لائن کیوں بحال کررہا ہے؟
تجدید کے لیے ترکیہ نے گزشتہ ستمبر میں مفاہمت نامے کے تحت ایک ایکشن پلان تیار کر لیا
تصویر: سوشل میڈیا
حجاز مقدس اور سعودی عرب میں خلافت عثمانیہ دور کی حجاز ریلوے بحال ہونے جا رہی ہے، سعودی عرب کے حکمرانوں نے بھی اس کا فیصلہ کر لیا ہے،حالاں کہ یہ عرب ہی تھے جنہوں نے حجاز ریلوے اکھاڑ پھینکی تھی۔
1322 کلومیٹر طویل حجازریلوے عثمانی خلیفہ عبدالحمید دوم کے دورمیں تعمیر ہوئی تھی۔ اس وقت برطانوی سلطنت نے اسے شدید مخالفت کا نشانہ بنایاتھا، کیونکہ اس طرح کا بڑا مواصلاتی اقدام اسامراجی مقاصد کے خلاف تھا۔ فرانس نے بھی مخالفت کی۔
برطانوی پروپیگنڈے کے ذریعے اس کاعوامی تاثرخراب کرنے کی کوشش ہوئی، گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں اورفنڈز کے غلط استعمال کے الزامات کی مہم چلائی گئی ۔
1908 میں پہلی ٹرین دمشق سے مدینہ تک چلی اور اگلے ہی سال سلطان کا تختہ الٹ دیا گیا۔پھرخلافت ختم ہوئی اور حجازریلوے بھی، جو 1914 تک سالانہ تین لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرتی رہی ، سازشوں کا نشانہ بن کر غیر فعال ہوگئی۔
مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں کےمشہور برطانوی کردار لارنس آف عریبیہ اور عربوں کی بغاوت میں شامل سپاہیوں نے اس کے ٹریک پر حملہ کیاتھا۔حجازیلوے کا سفر ختم ہوا اور اس کے انجن خاموش ہوگئے۔عمان میں اس کا میوزیم بنایاگیا۔
ترکیہ نے اس منصوبے کی بحالی کا آغازکیا ہے۔ترک وزیرِ ٹرانسپورٹ اینڈ انفراسٹرکچر عبدالقادر اورال اوغلو نے حجازریلوے کے عمان اسٹیشن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ،شام،اردن کوریڈور کے ساتھ، سعودی عرب اور عمان کی مدد سے یہ منصوبہ پورے خلیجی خطے میں اقتصادی رابطے کا ذریعہ بن کر ابھرنے والاہے۔
منصوبے کی تجدید کے لیے ترکیہ نے گزشتہ ستمبر میں مفاہمت نامے کے تحت ایک ایکشن پلان تیار کر لیا ہے۔ اس روڈ میپ میں شریک ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مشاورت اور تیاری کا کام شامل ہے۔ ترکیہ کے تعاون سے، شام باقی 30 کلومیٹر حصے کی تکمیل کرے گا، اردن لوکوموٹوز کی دیکھ بھال، مرمت اور آپریشنل مینجمنٹ کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
یہ وژن ترکیہ،عراق ڈویلپمنٹ روڈ پروجیکٹ سے مزید تقویت پارہاہے جوبڑے پیمانے پر مکمل ہوچکاہےجس نے ترکیہ کو علاقائی رابطہ کاری کا مرکزی کردار بنا دیا ہے۔ یہ پروجیکٹ خلیج فارس کو عراق کے ذریعے ترکیہ سے مربوط کرتا ہے۔ اس تناظر میں حجاز ریلوے ایک ایسے محور کے طور پر کام کرے گا، جو ترکیہ اور شام کے درمیان رابطے کو بحال کرتے ہوئے اردن تک وسیع ہو گا۔ ترکیہ کی حالیہ ہائی سپیڈ ریل نیٹ ورک میں توسیع کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ ترکیہ کو خلیج سے براہ راست جوڑنے والے کوریڈور کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
مواصلاتی رابطوں کی تجدید کا ترک وژن انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر علاقائی تجارت کے متبادل کوریڈورز تخلیق کررہاہے ۔اس کے ذریعے شام علاقے میں اور عالمی روابط بحال کررہاہے ،اسی طرح اردن کے اشتراک سے حجازریلوے منصوبہ اسٹرٹیجک محور کے طورپر سامنے آسکتاہے۔ ترکیہ اس منصوبے کے ذریعے عقبہ بندرگاہ کے راستے بحرِ احمر تک بھی کوریڈور کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ڈویلپمنٹ روڈ پروجیکٹ کے ساتھ مل کر، جو خلیج کی طرف رابطوںکو مضبوط کرتا ہے، یہ اقدام ترکیہ کو کلیدی سمندری اور تجارتی مراکز سے جوڑنے والا ایک دوہرا کوریڈور آرکیٹیکچر قائم کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ،دراصل، یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں آبنائے ہرمزکی بندش کا حل بھی ہے۔یہ ایک ایسی تجارتی راہداری ہوگی جو براہ راست خلیج فارس کے ساتھ جڑےگی۔ریلویزپرو ویب سائٹ نے سعودی وزارت ریلوے کے حوالے سے بتایاہے کہ ،نیاریل کوریڈور آبنائے ہرمزکا متبادل ہوگا۔یہ سعودیہ کو اردن تک براہ راست ریل سے رسائی دینے کے علاوہ بحیرہ احمر سمیت دیگر منڈیوں تک دوطرفہ ریلوے راستہ ہوگا جس کے ذریعے برآمد اور درآمد ممکن ہوگی۔
شام کی وزارت اقتصادیات وصنعت کے مشیر اسامہ القادری کا کہناہے کہ منصوبے کا مقصد توانائی کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں کا قیام اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرناہے۔اس راستے سے روزانہ تقریباً90 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی یقینی بنائی جائے گی۔