ایران کے جوہری پروگرام پر 20 سالہ معطلی قبول ، سیز فائر پاکستان کے کہنے پر کیا ، ٹرمپ

ہمارے پاس تقریباً ایک ماہ طویل جنگ بندی تھی لیکن اب ہمیں شاید ایران واپس جا کر کچھ 'صفائی کا کام' کرنا پڑ ے گا، انٹر ویو

فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری تنازع پر اہم سفارتی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کا عزم ‘حقیقی’ ہو، تو وہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کے اقدام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ حالیہ سیز فائر صرف پاکستان کی درخواست پر کیا گیا تھا اور امریکا وہاں دوبارہ ‘صفائی کا کام’ شروع کر سکتا ہے۔

چین کے دورے سے واپسی پر ‘ایئر فورس ون’ طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے سفارتی اور عسکری، دونوں امور پر کھل کر بات کی۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر طویل مدتی حل کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کی نیت صاف ہو اور وہ واقعی اس پر عملدرآمد کرنا چاہے، تو امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام کی 20 سالہ معطلی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ امریکا تہران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لیے ایک طویل مدتی سفارتی معاہدے کا آپشن کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب، حالیہ عسکری صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے، لیکن انہوں نے دیگر ممالک کے اصرار پر یہ فیصلہ کیا۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ میں واقعی اس سیز فائر کے حق میں نہیں تھا، لیکن ہم نے یہ صرف پاکستان کے ساتھ ایک ‘رعایت’ کے طور پر کیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی مسلح افواج کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس تقریباً ایک ماہ طویل جنگ بندی تھی لیکن اب ہمیں شاید ایران واپس جا کر کچھ ‘صفائی کا کام’ کرنا پڑے۔ تاہم انہوں نے اس صفائی کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

امریکا ایران کی افزودہ یورینیئم قبضے میں لے گا ، ٹرمپ

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی افزودہ یورینیئم کو صرف دفن کرنا کافی نہیں بلکہ امریکا اسے اپنے قبضے میں لے گا۔

ایک حالیہ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ بعض امریکی جرنیلوں کا خیال ہے کہ ایران کی افزودہ یورینیئم کو براہِ راست حاصل کرنا ضروری ہے، تاہم کیا اسے اس انداز میں زیرِ زمین دفن کیا جا سکتا ہے کہ ایران دوبارہ اُس تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے نزدیک ایرانی یورینیئم کو دفن کرنا صرف عوامی تعلقات کے نقطۂ نظر سے اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس یورینیئم کو حاصل کرے گا۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں صدر ٹرمپ کے بیان کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مؤقف میں ایک سخت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ چین کے دورے پر موجود تھے، ٹرمپ دورہ مکمل کر کے بیجنگ سے روانہ ہو گئے ہیں۔