آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں: یورپی یونین نے پاسدارانِ انقلاب نیول یونٹ اور 2 حکام پر پابندیاں لگا دیں

جہاز رانی کو نقصان پہنچانے پر ایران کے خلاف یورپی یونین کی جانب سے نئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ پہلی کارروائی ہے۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

برسلز / نیکوسیا:یورپی یونین نے تزویراتی (اسٹریٹجک) لحاظ سے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹیں ڈالنے اور خطرات پیدا کرنے کے الزام میں ایران کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ یورپی بلاک نے ایران کی طاقتور فوج ‘پاسدارانِ انقلاب کی ایک نیول یونٹ اور دو اعلیٰ ایرانی شخصیات پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

عالمی سمندری حدود میں آزادیِ جہاز رانی کو نقصان پہنچانے پر ایران کے خلاف یورپی یونین کی جانب سے نئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ پہلی کارروائی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر کی کل تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) اسی اہم ترین بحری راستے سے گزرتا ہے۔

آئی آر جی سی نیوی کی ہرمزگان پروونشل کمانڈ: پاسدارانِ انقلاب کی اس بحری یونٹ پر الزام ہے کہ وہ اس بحری راستے پر کنٹرول حاصل کر کے جہازوں سے زبردستی ٹول ٹیکس (ٹریفک فیس) وصول کر رہی ہے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جہاز رانی کو روک رہی ہے۔

محمد اکبر زادہ: یہ آئی آر جی سی (IRGC) نیوی کے سیاسی امور کے ڈپٹی کمانڈر اور ترجمان ہیں، جن پر تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کی دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔

حمید حسینی: یہ ایران کی ‘آئل، گیس اینڈ پیٹرو کیمیکل پروڈکٹس ایکسپورٹرز یونین’ کے نمائندے ہیں، جو یورپی یونین کے مطابق ایرانی حکام کے اس غیر قانونی ٹول ٹیکس نظام کو فروغ دینے میں ملوث ہیں۔

INTERACTIVE - Strait of Hormuz - March 2, 2026-1772714221