عراقی حکومت کی مسلح ملیشیا تنظیموں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوششیں تیز
ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے اور اسلحے کو حکومتی کنٹرول میں لانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے
بغداد: عراق میں حکومت کی جانب سے مسلح گروہوں کو ریاستی نظام کے تحت لانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں متعدد بااثر ملیشیا تنظیموں نے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے یا سرکاری سیکیورٹی اداروں کا حصہ بننے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے اور اسلحے کو حکومتی کنٹرول میں لانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ حکومتی اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے قریب سمجھے جانے والے بعض گروہوں، جن میں عصائب اہل الحق اور کتائب الامام علی شامل ہیں، نے اپنے ہتھیار ریاستی نگرانی میں دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل مقتدیٰ الصدر سے وابستہ سرایا السلام بھی اسی نوعیت کا فیصلہ کر چکی ہے۔
پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کا قیام 2014 میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران عمل میں آیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ تنظیم ملک میں ایک مؤثر عسکری اور سیاسی قوت کے طور پر ابھری۔ تنظیم کے ارکان کی بڑی تعداد اور وسیع اثر و رسوخ کے باعث ناقدین اسے بعض اوقات ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب عراقی عوام کی بڑی تعداد ملیشیا گروہوں کے غیر مسلح ہونے کی حمایت کرتی ہے، تاہم بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ اصلاحات محض ظاہری تبدیلی ثابت نہ ہوں اور یہ گروہ نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھیں۔