لبنان: بیروت پر اسرائیلی فضائی حملہ، 3 افراد جاں بحق، 15 زخمی

تاحال حزب اللہ نے اسرائیلی بیان پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا.

June 14, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

تل ابیب: اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو گئے ہیں۔

ریسکیو ادارے کے مطابق غبیری کے علاقے میں حملے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور ریسکیو کی کارروائیاں جاری ہیں، اب تک تین لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ ملبہ ہٹانے اور متاثرہ افراد کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ حملے میں 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں، دکانوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے باعث علاقے میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد عمارتوں کے اگلے حصے متاثر ہوئے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی حصے پر 4 گائیڈڈ میزائل داغے۔ حملے کے ممکنہ اہداف کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے آج کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے، جو جنگ بندی معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامی نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کرٹز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’اسرائیلی فوج نے اپنی سرزمین پر حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں بیروت کے ضاحیہ علاقے میں حزب اللہ کے دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھنے والے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

تاحال حزب اللہ نے اسرائیلی بیان پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی افواج پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جب اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ ضاحیہ پر حملہ کیا تھا تو ایران نے اسرائیل کے مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا اور یہ کشیدگی اس وقت کم ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔