بھارت اور یورپی عناصر بی ایل اے کی سرپرسی کر رہے ہیں ، اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار
خواتین کا استعمال اسلامی اور بلوچ روایات کے منافی، ریکوڈک اور مائننگ منصوبے صوبے کی تقدیر بدل دیں گے: سیکیورٹی ذرائع کی میڈیا سے اہم نشست
فائل فوٹو
اسلام آباد : اعلیٰ سیکیورٹی عہدیداروں نے میڈیا کے ساتھ ایک اہم نشست میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں اور دشمن عناصر کے پروپیگنڈے کے حوالے سے اہم ترین حقائق سامنے رکھ دیے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ‘فتنہ الہندوستان’ (بی ایل اے) خالصتاً ایک دہشت گرد تنظیم ہے، جس کی سرپرستی بھارت اور کچھ یورپی عناصر کر رہے ہیں۔ پاکستان دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ریاست مخالف بیانیے کی تشکیل اور ترویج بھارت اور پاکستان دشمن عناصر کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ یہ نام نہاد بیانیے کی جنگ صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے اور اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
بلوچستان میں 32 ہزار کلومیٹر پر محیط سڑکوں اور ہائی ویز پر روزانہ 18 ہزار سے زائد گاڑیوں کی محفوظ آمدورفت ہوتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دہشت گرد بلوچستان کی وسعت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکا دکا گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا اور کچھ بیرونی میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے حالات کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان دہشت گردوں کے سہولت کار اور بیرون ملک بیٹھے ہنڈلرز ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت ان ویڈیوز کو استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا کہ فتنہ الہندوستان اور اس کے سرپرستوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اب خواتین کو استعمال کرنے کی مکروہ حکمت عملی اپنائی ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف اسلام بلکہ اصل بلوچ روایات سے بھی شدید متصادم ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بلوچستان کے طول و عرض میں فتنہ الہندوستان کے خلاف عوامی نفرت میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان ضلعی سطح پر فنڈز کی شفاف تقسیم، منصوبوں کے درست انتخاب اور ان پر بروقت عمل درآمد کے ذریعے بہترین نتائج پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ریکوڈک اور کان کنی (مائننگ) کے دیگر منصوبے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم سنگ میل ہیں۔ان منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور بلوچستان کو ملنے والی رائلٹی صوبے کی ترقی میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔
نشست کے آخر میں سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ کسی بھی علاقے سے نکلنے والی معدنیات کی کھپت صرف اس علاقے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اسے ایکسپورٹ اور پروسیسنگ کے ذریعے ملکی ترقی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے جس کے براہ راست فوائد عوام کو حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی میں ہی پاکستان کی ترقی ہے اور اس سفر کو کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا۔