فیفا کی پالیسیوں پر فلپ لاہم برس پڑے
فیفا کلب ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا
فیفا کی پالیسیوں پر فلپ لاہم برس پڑے- جرمنی کے سابق فٹبالر اور ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان فلپ لاہم نے عالمی فٹبال کے انتظامی ڈھانچے اور کھیل میں بڑھتے ہوئے تجارتی رجحانات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایک حالیہ تحریر میں انہوں نے کہا کہ فٹبال کے اہم مقابلوں میں مالی فوائد کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، جس کے باعث شائقین اور کھلاڑیوں کے مفادات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کھیل کی مقبولیت اور روایت کو برقرار رکھنے کے لیے توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔
فلپ لاہم نے خاص طور پر ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے مسلسل پھیلتے ہوئے حجم پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رجحان سے عام شائقین کے لیے بڑے مقابلوں تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے فیفا کلب ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مصروف شیڈول پہلے ہی کھلاڑیوں پر جسمانی اور ذہنی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ مزید میچز اور طویل سفری مصروفیات کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
سابق جرمن کپتان نے 2026 ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں شفافیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق شائقین کو قیمتوں اور فروخت کے نظام سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔
تاہم فلپ لاہم نے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 کرنے کے فیصلے کی حمایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نسبتاً چھوٹی اور ابھرتی ہوئی فٹبال ٹیموں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا، جس سے عالمی فٹبال مزید متنوع اور دلچسپ بنے گا۔
فٹبال مبصرین کے مطابق کھیل میں تجارتی مفادات اور روایتی اقدار کے درمیان توازن کا موضوع آئندہ برسوں میں بھی بحث کا مرکز رہ سکتا ہے۔