اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی “رضاکارانہ ہجرت” کا منصوبہ اب بھی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے، جبکہ غزہ میں غیرقانونی یہودی آبادکاری کے معاملے پر انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
دائیں بازو کے حامی ٹی وی چینل چینل 14 کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ “رضاکارانہ ہجرت” کا منصوبہ اب بھی زیر غور ہے۔
جب ان سے غزہ میں غیرقانونی یہودی بستیاں دوبارہ قائم کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ “سوال یہ ہے کہ آپ کام کرنا پسند کرتے ہیں یا صرف باتیں کرنا؟ میں اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتا۔”
ناقدین اس سے قبل “رضاکارانہ ہجرت” کی اصطلاح کو جنگ سے تباہ حال غزہ سے فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے لیے استعمال ہونے والی نرم تعبیر قرار دے چکے ہیں، کیونکہ اسرائیلی جنگ کے بعد غزہ کا بڑا حصہ رہائش کے قابل نہیں رہا۔
نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔