ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد یورپ جانے والے روٹس پر زیادہ مسافر اور بلند کرایوں کا فائدہ اٹھانے والی ایشیائی ایئرلائنز اب اپنی برتری کھوتی جا رہی ہیں، کیونکہ خلیجی ایئرلائنز نے پروازیں بحال کرتے ہوئے نسبتاً کم کرایوں کی پیشکش شروع کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جنگ سے قبل امارات ایئرلائن، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز ایشیا سے یورپ جانے والے تقریباً ایک تہائی مسافروں کو جبکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے یورپ جانے والے نصف سے زیادہ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرتی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث خلیجی ممالک کے اہم ہوائی اڈے عارضی طور پر بند ہو گئے تھے، تاہم جون کے وسط تک ان ایئرلائنز کی پروازیں معمول کے تقریباً 90 فیصد تک بحال ہو چکی تھیں۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے مئی کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز میں مسافروں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد کمی سے بہتر ہو کر 28 فیصد کمی تک آ گئی۔
اسی عرصے میں ایشیا سے یورپ براہِ راست پروازوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد مارچ میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 30 فیصد بڑھی تھی، تاہم مئی تک یہ اضافہ کم ہو کر 15 فیصد رہ گیا۔
جون میں آسٹریلیا نے خلیجی ممالک کے لیے جاری “سفر نہ کریں” کی سفری ہدایت ختم کر دی، جس کے باعث مسافروں کی سفری انشورنس دوبارہ بحال ہو گئی۔ اس کے بعد ٹریول کمپنی فلائٹ سینٹر ٹریول گروپ نے بتایا کہ اگلے ہی ہفتے امارات، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز کی بکنگز میں 36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔