دبئی: بحری تجزیاتی ادارے ونڈورڈ (Windward) کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا ہے اور جہازوں کی نقل و حرکت اب بھی جنگ سے پہلے کی معمول کی سطح سے خاصی کم ہے۔
ادارے نے اپنے تازہ جائزے میں کہا کہ 29 جون کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول سے بہت کم رہی، جبکہ مشکوک یا بغیر شناختی سگنل کے سفر کرنے والی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
ونڈورڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ متعدد پابندیوں کا شکار آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں ایک ایسا ایرانی ٹینکر بھی شامل تھا جو ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ جعلی یورپی پرچم کے ساتھ سفر کرتا ہوا پایا گیا۔
ادارے کے مطابق فی الحال پروجیکٹ فریڈم کے تحت امریکا کی معاونت سے قائم جنوبی بحری راہداری ہی محدود اور نسبتاً محفوظ بحری آمدورفت کو ممکن بنا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت 16 کارگو جہاز آبنائے ہرمز کی جانب آ رہے تھے، جبکہ 23 جہاز وہاں سے روانہ ہو رہے تھے۔
دوسری جانب عالمی جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک (MarineTraffic) کے مطابق سکیورٹی خدشات اور جمعہ و ہفتہ کو دو جہازوں پر حملوں کے باوجود ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت جاری رہی۔ ویب سائٹ کے مطابق تین روز کے دوران مجموعی طور پر 108 تصدیق شدہ بحری گزرگاہیں ریکارڈ کی گئیں۔