آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس کی حمایت نہیں کرتے۔عمان

جہازوں سے صرف محفوظ بحری خدمات کے عوض فیس لی جا سکتی ہے

July 1, 2026 · بام دنیا

عمان نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر صرف گزرنے کے عوض ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا، تاہم بحری، ماحولیاتی اور جہاز رانی سے متعلق خدمات کے بدلے الگ فیس لینے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے پیر کے روز کہا کہ مسقط اور تہران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ممکنہ سروس چارجز پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس وصول کرنا اور محفوظ جہاز رانی یا دیگر سہولیات کی فراہمی کے عوض فیس لینا دو الگ معاملات ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی قسم کی سروس فیس متعارف کرائی جاتی ہے تو اس پر ان ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ رضاکارانہ بنیادوں پر مشاورت کی جائے گی جو ان خدمات سے فائدہ اٹھائیں گے۔

بدر البوسعیدی کے مطابق ان خدمات میں جہاز رانی کے تحفظ کو بہتر بنانا، سمندری آلودگی سے پانیوں کا تحفظ، اور حادثات، آگ لگنے یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو مضبوط بنانا شامل ہو سکتا ہے۔

عمانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد تہران آبنائے ہرمز میں سکیورٹی اور جہاز رانی کے انتظامات پر اپنا کردار برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ خطے اور عالمی برادری کے کئی ممالک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے مزید مضبوط ضمانتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔