پیوٹن اور ٹرمپ کی 90 منٹ گفتگو، یوکرین جنگ کے خاتمے پر تبادلۂ خیال
صدر پیوٹن نے گفتگو کے آغاز میں امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کے موقع پر صدر ٹرمپ اور امریکی عوام کو مبارکباد پیش کی۔
فائل فوٹو
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 4 جولائی کو تقریباً 90 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں یوکرین جنگ، دوطرفہ تعلقات اور عالمی سلامتی سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان رواں سال یہ چوتھا ٹیلیفونک رابطہ تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین جنگ کے جلد از جلد خاتمے میں کردار ادا کرنے کی اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
صدر پیوٹن نے گفتگو کے آغاز میں امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کے موقع پر صدر ٹرمپ اور امریکی عوام کو مبارکباد بھی پیش کی۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ماسکو نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ یوکرین تنازع کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔
روس نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی جنگ کو طول دینے اور مزید شدت دینے کے خواہاں ہیں۔
کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو محاذِ جنگ کی تازہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ روسی افواج مشرقی یوکرین میں مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔