پاکستان نے ایک بار پھر مہنگی ایل این کی خرید لی

رواں سال جنوری میں قطر سے پاکستان آنے والی مائع قدرتی گیس کی مقدار تقریباً آٹھ لاکھ ٹن تھی

July 6, 2026 · قومی

اسلام آباد: مائع قدرتی گیس کی سپلائی میں مسلسل رکاوٹوں کے باعث پاکستان نے چند ہفتوں کے دوران دوسری مرتبہ فوری فراہمی کے لیے مائع قدرتی گیس کا کارگو خرید لیا ہے، تاکہ ملک کی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے فرانسیسی توانائی کمپنی ٹوٹل انرجیز سے مائع قدرتی گیس کا ایک کارگو 17 اعشاریہ 37 امریکی ڈالر فی دس لاکھ برطانوی حرارتی اکائی کی قیمت پر خریدا، جس کی ترسیل 10 اور 11 جولائی کے درمیان متوقع ہے۔

اس سے قبل پاکستان گزشتہ ہفتے برطانوی توانائی کمپنی بی پی سے بھی ایک کارگو 16 اعشاریہ 74 امریکی ڈالر فی دس لاکھ برطانوی حرارتی اکائی کے حساب سے خرید چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں فوری فراہمی کے لیے مائع قدرتی گیس کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔

پاکستان کئی برسوں سے قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت مائع قدرتی گیس درآمد کرتا رہا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث قطر سے گیس کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی، جس کے بعد حکومت کو متبادل ذرائع سے گیس حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری میں قطر سے پاکستان آنے والی مائع قدرتی گیس کی مقدار تقریباً آٹھ لاکھ ٹن تھی، جو اپریل تک کم ہو کر پچاس ہزار ٹن سے بھی نیچے آ گئی۔ اس کمی کو جزوی طور پر موزمبیق، عمان اور امریکہ سے درآمد کیے گئے کارگو کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔

پاکستان نے امریکہ سے بھی مائع قدرتی گیس درآمد کی، تاہم اس کی قیمت نسبتاً زیادہ رہی۔ مئی میں درآمد کیے گئے امریکی کارگو کی قیمت 18 اعشاریہ 40 امریکی ڈالر فی دس لاکھ برطانوی حرارتی اکائی رہی۔

ماہرین کے مطابق حالیہ خریداریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپلائی کی صورتحال اب بھی دباؤ کا شکار ہے، تاہم بجلی کی پیداوار، صنعتوں اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو مہنگی عالمی اسپاٹ منڈی سے بھی مائع قدرتی گیس خریدنا پڑ رہی ہے۔