پاکستان کا پہلا ایف 16 طیارہ سؤر نے تباہ کیا
طیارہ انتہائی رفتار میں ہونے کے باعث اسے روکنا ممکن نہ رہا اور تصادم کے نتیجے میں طیارے کا اگلا لینڈنگ گیئر شدید متاثر ہوا۔
پاک فضائیہ کے ایف-16 طیاروں کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ بھی موجود ہے جسے آج بھی غیر معمولی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔ 18 دسمبر 1986 کو سرگودھا ایئربیس پر رات کی ایک تربیتی پرواز کے دوران پاکستان کا ایک ایف-16 طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔
رپورٹس کے مطابق طیارہ رن وے پر ٹیک آف کے لیے تیزی سے دوڑ رہا تھا کہ اچانک ایک جنگلی سور رن وے پر آ گیا۔ طیارہ انتہائی رفتار میں ہونے کے باعث اسے روکنا ممکن نہ رہا اور تصادم کے نتیجے میں طیارے کا اگلا لینڈنگ گیئر شدید متاثر ہوا۔
حادثے کے بعد طیارہ رن وے سے پھسلتا ہوا آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ تاہم دونوں پائلٹس نے بروقت ایجیکشن سسٹم استعمال کرتے ہوئے خود کو بحفاظت باہر نکال لیا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں بتایا گیا کہ جنگلی جانور قریبی علاقے سے رن وے تک پہنچ گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پاک فضائیہ نے فضائی اڈوں کی سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے حفاظتی باڑ اور دیگر انتظامات کو بہتر بنایا تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔
دفاعی رپورٹس کے مطابق پاکستان کئی دہائیوں سے ایف-16 طیارے استعمال کر رہا ہے اور مختلف حادثات میں چند طیارے ضائع ہوئے، تاہم سرکاری سطح پر دستیاب معلومات کے مطابق کسی پاکستانی ایف-16 کے دشمن کی کارروائی میں تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔