ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی آج سے نافذ ، حکم نہ ماننے والے جہازوں کو اڑانے کی امریکی دھمکی

جو جہاز سمندر میں ایک سے دوسرے جہاز پر سامان منتقل کر کے ناکہ بندی کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے، انہیں ایران کا حامی تصور کیا جائے گا ،جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر

فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران پر دوبارہ سے سخت بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا آغاز منگل (14 جولائی) کو گرین وچ ٹائم (GMT) کے مطابق رات 8:00 بجے ہوگا۔

یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی تفصیلات امریکی بحریہ کی قیادت میں کام کرنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے ایک باضابطہ بیان میں جاری کی ہیں۔

ناکہ بندی کا دائرہ کار اور امریکی انتباہ

جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈایران کی تمام جنوبی بندرگاہوں اور ساحلی پٹی پر اس بحری ناکہ بندی کو نافذ کرے گی۔

بیان میں تمام غیر جانبدار ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو سخت وارننگ جاری کی گئی ہے تمام غیر جانبدار بحری جہازوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ ناکہ بندی کے باقاعدہ نفاذ (منگل رات 20:00 GMT) سے پہلے بلا تاخیر اس بلاک شدہ علاقے سے نکل جائیں۔

امدادی سامان کے لیے استثنیٰ

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی وہ بین الاقوامی آمد و رفت متاثر نہیں ہوگی جو ایران کے علاوہ دیگر ممالک کے لیے ہو رہی ہو۔ اس کے علاوہ انسانی ہمدردی کے سامان (جیسے خوراک اور ادویات) کی ترسیل کی اجازت ہوگی۔تاہم،ایسے تمام امدادی جہازوں کو پہلے سیکیورٹی فورسز کے سخت معائنے سے گزرنا پڑے گا۔

خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت کارروائی کی دھمکی

جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ ناکہ بندی کو بائی پاس کرنے یا ایرانی بحری جہازوں کی مدد کرنے والے دیگر جہازوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے جو جہاز سمندر میں ایک سے دوسرے جہاز پر سامان منتقل کر کے ناکہ بندی کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے، انہیں ایران کا حامی تصور کیا جائے گا اور امریکی سیکیورٹی فورسز ان پر سوار ہو کر تلاشی لیں گی۔

فوری حکم عدولی نہ کرنے والے یا مزاحمت کرنے والے جہازوں کو ناکارہ بنانے کے لیے ان پر تباہ کن فائرنگ بھی کی جا سکتی ہے۔