مندر فنڈز کے مبینہ غلط استعمال پر مودی حکومت تنقید کی زد میں

تحقیقات کے دوران بی جے پی کی ریاستی سیکرٹری نیہا جوشی کے نام پر 60 ہزار روپے خرچ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

July 15, 2026 · بام دنیا

بھارت میں مذہبی اداروں کے مالی معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق رام مندر سے متعلق تنازع کے بعد اب ریاست اتراکھنڈ کے ایک مندر کے فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بھارتی جریدے “دی وائر” کی رپورٹ کے مطابق مندر کے فنڈز مبینہ طور پر وی آئی پی مہمانوں کی میزبانی اور دیگر اخراجات پر استعمال کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ تحقیقات کے دوران بی جے پی کی ریاستی سیکرٹری نیہا جوشی کے نام پر 60 ہزار روپے خرچ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ادھر مختلف سیاسی رہنماؤں نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے رہنما پریانک کھرگے نے رام مندر سے متعلق الزامات پر آر ایس ایس سے عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کمیونسٹ پارٹی کے مقامی رہنما سوریا کانت پانڈے نے ٹرسٹ کے مالی معاملات پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اگر بے ضابطگیوں کی روک تھام نہیں ہو سکی تو ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔

دوسری جانب بھارتی رکن اسمبلی ساگریکا گھوش نے بھی اس معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اتنے سنگین الزامات کے باوجود حکومت کی جانب سے واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

تاہم ان الزامات پر متعلقہ حکام یا مندر انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ اور حتمی وضاحت سامنے نہیں آئی، جبکہ معاملے سے متعلق مختلف رپورٹس اور دعوؤں پر بحث جاری ہے۔