گیس بحران شدت اختیار کر گیا،ڈھاکہ میں گھنٹوں انتظار معمول بن گیا
سی این جی اسٹیشنوں پر سینکڑوں گاڑیاں گیس کے حصول کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کر رہی ہیں
بنگلہ دیش میں گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث دارالحکومت ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں سی این جی فلنگ اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جس سے شہریوں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ سے ڈھاکہ، چٹاگانگ ہائی وے اور دیگر علاقوں میں سی این جی اسٹیشنوں پر سینکڑوں گاڑیاں گیس کے حصول کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کر رہی ہیں۔ بعض مقامات پر گیس کی قلت کے باعث دن کے اوقات میں عارضی طور پر سپلائی بھی معطل کر دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی فلنگ اسٹیشنوں پر ایک وقت میں 150 سے 200 سے زائد پرائیویٹ گاڑیاں، مائیکرو بسیں اور آٹو رکشے قطاروں میں کھڑے دیکھے گئے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ جہاں پہلے 15 سے 20 منٹ میں گیس دستیاب ہو جاتی تھی، اب انہیں دو سے تین گھنٹے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کی روانی اور سامان کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں گھریلو صارفین کو بھی کم گیس پریشر کا سامنا ہے، جس کے باعث کھانا پکانے اور روزمرہ گھریلو امور میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق گیس بحران کی ایک بڑی وجہ ماتربڑی میں واقع تیرتے ایل این جی (ایف ایس آر یو) ٹرمینل میں پیش آنے والی فنی خرابی ہے، جس کے باعث قومی گیس گرڈ کو فراہم کی جانے والی گیس کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
بنگلہ دیش کے محکمہ توانائی و معدنی وسائل کے مطابق اس وقت قومی گیس گرڈ کو روزانہ تقریباً 450 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کی جا رہی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گیس کی مکمل سپلائی کب تک بحال ہو سکے گی۔