برصغیر سے آسٹریلیا جانے والی مینا نے قہر ڈھا دیا

کیڑوں کے خاتمے کے لیے لایا گیا پرندہ مقامی حیات اور پرندوں کے لیے خطرہ قرار

July 27, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

آسٹریلیا میں 1860 کی دہائی میں کیڑے مکوڑوں پر قابو پانے کے لیے متعارف کرائی گئی بھارتی مینا (Indian Myna) اب خود ایک نقصان دہ اور جارحانہ حملہ آور نسل بن چکی ہے، جو مقامی پرندوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

کینبرا انڈین مینا ایکشن گروپ (CIMAG) کے صدر بل ہینڈکے کے مطابق ہندستانی مینا خوراک اور گھونسلوں پر قبضہ کر کے مقامی پرندوں کو بے دخل کرتی ہے،  ان کے انڈے اور بچے بھی تباہ کر دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نسل خاص طور پر کھوکھلے درختوں میں گھونسلے بنانے والے پرندوں، جیسے کرِمسن اور ایسٹرن روزیلا، کے لیے نقصان دہ ہے۔

ہندستانی مینا اپنی تیز رفتار افزائش نسل کے باعث آسٹریلیا کے مشرقی ساحلی علاقوں میں وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔

کینبرا انڈین مینا ایکشن گروپ 2006 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ عوام میں آگاہی پیدا کی جا سکے اور گھروں میں پرندوں کو پکڑنے کے لیے مفت جال فراہم کیے جا سکیں۔ تنظیم کے مطابق کینبرا، کوئنبیان اور مَرمبٹی مین کے تین ہزار سے زائد گھرانوں نے اس مہم میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں 80 ہزار سے زیادہ بھارتی مینا پرندے ہٹائے گئے۔

بل ہینڈکے کے مطابق ایک وقت میں ہندستانی مینا کینبرا کا تیسرا سب سے عام پرندہ تھا، تاہم مسلسل مہم کے بعد یہ چوبیسویں نمبر پر آ گیا تھا، لیکن اب اس کی تعداد دوبارہ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور حالیہ سروے میں اسے دوبارہ دسویں سب سے عام پرندہ قرار دیا گیا ہے۔

2021 میں  ہندستانی مینا کو باضابطہ طور پر ضرر رساں نسل قرار دیے جانے کے بعد تنظیم کو امید تھی کہ حکومت اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر سرکاری مقامات پر اس کے خلاف مربوط کارروائی کرے گی، تاہم بل ہینڈکے کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ 2023 میں 2,100 سے زائد افراد کے دستخطوں پر مشتمل درخواست بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔

دوسری جانب اے سی ٹی حکومت  ہندستانی مینا کو نقصان دہ نسل تو تسلیم کرتی ہے، تاہم کنزرویٹر آف فلورا اینڈ فونا برین برکیوکس کے مطابق یہ شہری ماحول سے مطابقت اختیار کر چکا ہے اور فی الحال اسے انتظامی ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ قومی اہمیت کے حامل محفوظ علاقوں میں مقامی پرندوں کے لیے واضح خطرہ نظر نہیں آ رہا۔

کینبرا انڈین مینا ایکشن گروپ اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ ہندستانی مینا نہ صرف مقامی پرندوں کو بے دخل کرتا ہے بلکہ گولڈن سن موتھ اور کینبرا ایئرلیس ڈریگن جیسے خطرے سے دوچار جانداروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

پرندوں کو پکڑنے کے بعد تلف کرنے کے طریقہ کار پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ تنظیم پہلے ٹھنڈے پیٹرول انجن سے حاصل ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ استعمال کرتی تھی، تاہم اب کاربن ڈائی آکسائیڈ کو زیادہ موزوں طریقہ قرار دیا جاتا ہے۔

آر ایس پی سی اے اے سی ٹی کی چیف ایگزیکٹو مشیل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ اگر  ہندستانی مینا کی تعداد کم کرنا ضروری ہو تو یہ کام تربیت یافتہ افراد کی نگرانی میں انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اے سی ٹی حکومت بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتی ہے اور عوام کو ہندستانی مینا پکڑنے اور ہلاک کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔

بل ہینڈکے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر  ہندستانی مینا کی آبادی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ تاہم آفس آف دی کنزرویٹر آف فلورا اینڈ فونا کا کہنا ہے کہ تنظیم کی کوششوں کا احترام کیا جاتا ہے، لیکن پورے کینبرا میں حکومت کی قیادت میں بڑے پیمانے پر کارروائی کا امکان کم ہے۔