آزاد کشمیر میں اموات کی تصدیق نہیں کر سکتے،آئی جی
گذشتہ ماہ بھی کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔
آزادکشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے اس دعوے پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشیں کسی ریکارڈ پر نہ آ جائیں اور یا ان کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال نہ لایا جائے۔ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ بھی کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔
کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اُن کے پانچ کارکن جا ں بحق ہو گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زائد کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز راولا کوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں۔
عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کور کمیٹی کے رکن عمر نذیر کشمیری کا قریبی عزیز بھی شامل ہے