گرفتاری کی کوشش ہوئی تو خصوصی سکیورٹی دستے موجود ہوں گے، نیتن یاہو
اس دوران بعض امریکی سیاسی شخصیات بھی نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق بیانات دے چکی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اپنے دورے کو منسوخ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اگر بیرونِ ملک ان کی گرفتاری کی کوشش کی گئی تو ان کے تحفظ کے لیے خصوصی دستے موجود ہوں گے۔ تاہم انہوں نے ان دستوں کی نوعیت یا ممکنہ کردار کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے جاری وارنٹ اور اس سے متعلق عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ اس دوران بعض امریکی سیاسی شخصیات بھی نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق بیانات دے چکی ہیں۔
انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے آئی سی سی کے وارنٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کو غیر جانبدار ادارہ نہیں سمجھتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس نوعیت کے اقدامات مستقبل میں دیگر ممالک کے حکام اور فوجی اہلکاروں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے خطے میں سفارتی تعاون کے حوالے سے ابراہیم معاہدوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے یہ بیانات ان کے متوقع دورۂ امریکا، آئی سی سی کے وارنٹ اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف دعوؤں اور مؤقف کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔