خبردار! سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر شیئر کرنا ان کی حفاظت کے لیے بڑا خطرہ بن گیا

بچوں کی تصاویر کا غلط استعمال ہو سکتا ہے

July 30, 2026 · بام دنیا

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے والدین کو شدید خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کے جدید دور میں بچوں کی عام تصاویر کا خطرناک اور نازیبا مقصد کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ بے حد بڑھ چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے بچوں کی روزمرہ تصاویر اور یادگار لمحات پوسٹ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ماہرین شرینٹنگ کا نام دیتے ہیں۔

اکثر والدین محض خوشی اور اپنے پیاروں کے ساتھ یادیں بانٹنے کے لیے تصاویر شیئر کرتے ہیں مگر یہ مواد اب بچوں کی پرائیویسی اور آن لائن تحفظ کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق سائبر مجرم اور ہیکرز مصنوعی ذہانت کے ایڈوانس ٹولز کا استعمال کر کے سوشل میڈیا سے بچوں کی عام اور معصوم خاندانی تصاویر حاصل کرتے ہیں اور بعد ازاں ان تصاویر کو حقیقت سے قریب تر جعلی اور نازیبا تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر دیتے ہیں جنہیں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے تمام والدین کو فوری طور پر اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سیٹنگز کو پرائیویٹ کرنے، تصاویر کو صرف قریبی اعتماد والے رشتہ داروں تک محدود رکھنے اور بچوں کی پرانی تصاویر کی رسائی کو چھپانے کی ہدایت کی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی کوئی بھی تصویر اب محض ایک تصویر نہیں رہتی، اس لیے احتیاط اور پرائیویسی ہی بچوں کو آن لائن جرائم سے بچانے کا واحد حل ہے۔