راشد عباسی کا شعری مجموعہ “ریت نیں رسّے”
راشد عباسی کی پہاڑی غزلوں اور نظموں کا پہلا مجموعہ، سن دو ہزار بائیس میں منظرِ عام پر آیا تھا۔

راشد عباسی کی پہاڑی غزلوں اور نظموں کا پہلا مجموعہ، سن دو ہزار بائیس میں منظرِ عام پر آیا تھا۔ پِھر دو ہزار پچیس میں پہاڑی نظموں کی کتاب “عشق اُڈاری” نے اُڑان بھری اور اب سالِ رواں یعنی دو ہزار چھبیس میں اِن کی پہاڑی غزلوں کا صحیفۂ نو، “ریت نیں رسّے” گویا قحطِ حرف و معنی کے صحرا میں ایک نیا گُل زار کھلانے جا رہا ہے۔
صحرا میں گُلزار کھِلانا اور ریت کے رسّے بٹنا، دونوں ہی غایت درجہ مشکل ہی نہیں، ناممکن کام ہیں۔ لیکن کیا کیجیے کہ راشد عباسی کی دُشوار پسند طبیعت اس سے کم پر راضی نہیں ہوتی۔ تاہم اس بار اُنہوں نے جس کام میں ہاتھ ڈالا ہے اُنہیں خود بھی اس کا بخوبی ادراک ہے۔
راشد اساں ناں تہّن جِگرا
ریتو نیں رسّے بٹّے
ریت کے رسّے بٹنے کے لیے جو جِگر کاوی، جان کاہی اور صلاحیتِ کار درکار ہے، راشد عباسی اس سے پوری طرح بہرہ وَر معلوم ہوتے ہیں۔ حالیہ چند برسوں کے دوران، نہایت معیاری پہاڑی شاعری کے تین وقیع مجموعے اور “رنتن” رجحان ساز مُجلّے کے سات بھرپور شمارے منصۂ شہود پر لانا، ریت کے رسّے بٹنا نہیں تو اور کیا ہے؟
اس عہدِ کم سواد میں جب قلم و قرطاس کے کرشمے ماند پڑ رہے ہوں اور تخلیقی جولانیوں نے مصنوعی ذہانت کی اطاعت گزاری میں ہی عافیت جان لی ہو تو واماندگیٔ شوق ایسی ہی پناہیں تراش لیتی ہے۔ تاہم راشد عباسی اس پڑاؤ پر رُکنے والوں میں سے نہیں، بلکہ اُس محدود لیکن نہایت مؤثر گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنا تخلیقی سرمایہ پہلے کتاب کی شکل میں سامنے لاتے ہیں اور بعد میں کسی اور غیر حقیقی اور ورچوئل (virtual) دنیا کے حوالے کرتے ہیں۔ ادبی دنیا میں اب ایسی مثالیں ہمارے ہاں بہت ہی کم ہیں، جیسے بیاض، الحمراء، نیرنگِ خیال، لوحِ ادب وغیرہ، باقی رہے نام اللہ کا۔ کتابیں البتہ کسی حد تک اس سے مُستثنیٰ ہیں اگرچہ کم تعداد میں چھپتی ہیں، تاہم چھپتی ہیں۔ یہ بات بارِ دگر یاد دلانے میں کوئی مُضائقہ نہیں کہ کتابوں سے بے اعتنائی کا یہ چلن ہمارے ہاں ہی ہے، دنیا میں اور کہیں ایسی ابتر اور المناک صورتِ حال نہیں پائی جاتی۔
بات ریت کے رسّے بٹنے کی ہو رہی تھی۔ راشد عباسی کو جیسے کہ ابھی ذکر ہوا، مشکلات سے کھیلنا نہ صرف عزیز ہے بلکہ وہ ان سے کھیلنے کا ہنر بھی جانتے ہیں، بالکل اس شعر کے مصداق۔۔۔
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
تاہم اب وہ اکیلے ہی نہیں بلکہ انجمن فروغِ پہاڑی زبان کے “کوہِ ندا” سے آواز لگاتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، اور ہر آنے والے دن اُن کے ہم نواؤں کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ قافلہ اب آگے کی سمت ہی اپنا سفر جاری رکھے گا۔
راشد عباسی محض دوسروں کو آواز لگانے کا فریضہ ہی انجام نہیں دے رہے بلکہ ان کی خاص طور پر پہاڑی شاعری بھی اپنی پوری تخلیقی توانائی اور وفور کے ساتھ امکان کے دَر کھول رہی ہے۔ یہ امکان کے دَر کھولنے والی بات اپنے بیان میں قدرے تفصیل چاہتی ہے۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ علاقائی زبانوں میں کی جانے والی شاعری علاقائی حد بندیوں کے اندر ہی رہتی ہے اور اس کی فضا، لفظیات اور ماحول اپنی زمین اور اس کی مٹی سے باہم منسلک اور پیوست اور کافی حد تک اس کے تابع رہتے ہیں۔ یہ بات عمومی طور پر کسی حد تک درست سہی، تاہم شاعر اور شاعری اگر زور دار اور بلند پایہ ہو تو وہی شاعری آفاق کی خبر لاتی ہے۔ ہمارے خطّے میں اس کی نمایاں مثالیں وارث شاہ، میاں محمد بخش، خوش حال خان خٹک، رحمان بابا، شاہ عبد اللطیف بھٹائی وغیرہم ہیں۔ باقی دنیا کے ہر علاقے سے بھی ایسے نام لیے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پنجابی زبان کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ اکثر اردو کے بڑے اہم شاعروں نے پنجابی میں بھی شاعری کی ہے اور دونوں زبانوں میں اُن کی شاعری درجۂ کمال کو چُھوتی ہے۔ جیسے فیض احمد فیض، منیر نیازی، شریف کنجاہی، احمد ظفر اور دیگر۔ دونوں زبانوں میں کی گئی شاعری کے مضامین تقریباً یکساں ہیں، اور اپنی ہی ایک زبان کی شاعری کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جانا بھی اس کا حصہ ہے۔ اسی طرح لمحۂ موجود میں جو شاعر پہاڑی، پوٹھوہاری زبان میں شاعری کر رہے ہیں یا ان کا شمار رفتگاں میں ہے، ان سب کا شمار اردو کے اہم اور قابلِ ذکر شاعروں میں ہوتا ہے۔ چند نام دیکھیے ۔۔۔
باقی صدیقی، آصف ثاقب، اختر امام رضوی، سلطان سکون، رشید نثار، سلیم شوالوی اور علی احمد قمر وغیرہم۔
اوپر کی معروضات کی روشنی میں ہم راشد عباسی (جو اردو زبان کے بھی ایک اہم شاعر ہیں) کی پہاڑی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی شاعری میں برتے گئے اسلوبِ بیان، احساسات و جذبات، متفرق معاملات، تصوّف سے جُڑے اسرار و رموز اور مزاحمتی شاعری کی جھلکیاں، معاشی اور معاشرتی نا ہمواریاں، انسان کی ازلی تنہائی، اندھیرے، اُجالے کی باہمی کھینچا تانی، بالا دست طبقات کی چِیرہ دستیاں اور آپس کی محاذ آرائی، غرضیکہ انسانی معاشرت اور رہن سہن سے جُڑا وہ کون سا ایسا پہلو ہے جو اس زیرِ نظر پہاڑی شاعری کی کتاب “ریت نیں رسّے” کا موضوع نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ کہیں بھی اس شعری مجموعے میں یکسانیت یا یک رنگی محسوس نہیں ہوتی۔ زندگی اپنے تمام جلوؤں اور ولولوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ میں آپ کی خدمت میں موضوعاتی اعتبار سے شاعری کے کچھ نمونے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ اوپر بیان کیے گئے میرے نکتۂ نظر کو سندِ تصدیق مل سکے۔
تاہم اشعار درج کیے جانے سے قبل چند کلِمات زیرِ گفتگو مجموعۂ کلام کے پیش لفظ، “ہک شاعر نیں خاب ناں جہان” کے بارے میں کہے جانے ضروری ہیں۔ راشد عباسی کی اس سادہ و پُرکار اور پُر مغز تحریر کو قلم بند کرنے کا ذریعہ تو اگرچہ “ریت نیں رسّے” ہی بنی ہے تاہم یہ ایک ایسا شعری منشور یا عہد نامہ ہے جو کسی بھی سنجیدہ فکر اور سچّے شاعر کے لیے اتنا ہی متعلق اور ضروری ہے جتنا صاحبِ تحریر کے لیے۔ راشد عباسی نے عہدِ گزشتہ اور عہدِ موجود سے جُڑے کم و بیش تمام رنگوں اور کیفیات کو کتاب کے فقط چار صفحات میں سمو دیا ہے۔ نو واردانِ شعر و ادب کے لیے یہ نکات ازبس ضروری ہیں لیکن ۔۔۔
بِسیار سفر باید تا پختہ شود خامے
کے مصداق کُہنہ مشق بھی اس سے مُبّرا و بے نیاز نہیں رہ سکتے۔
آئیے! اس خِرد افروز ابتدائیے کے بعد آغاز ہوتی کتاب “ریت نیں رسّے” پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور اس کے بل کھول کر دیکھتے ہیں کہ ان میں الفاظ و معنی کے کیا کیا گوہر پوشیدہ ہیں۔
بنی نوع اِنسان سے محبت اور مہربانی کا برتاؤ ایک بلند مرتبہ انسانی شعار ہے، اور شاعری کے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک اور شاید سرِ فہرست۔۔۔ راشد عباسی کہتے ہیں ۔۔۔
اُس نا مسلک آ بَکھرا دنیا سی
جس کی انسان نَل محبت ای
شاعر چراغِ دل کی روشنی میں محبتوں کا گاؤں تلاش کرتا پّھر رہا ہے؛
دِل نی بتّی بالی ، لوڑاں
ٹہوک محبتاں والی لوڑاں
اور پھِر ۔۔۔
ہِلس سنیہا کِہنی کَہر کَہر اچھّو جُلیے سنگیو
بُت اے جیہڑے غرضاں والے سارے پہننے پَیسن
محبت اور آپس میں میل جول اور بھائی چارے کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے ۔۔۔
جد تکّ بکھرے بکھرے آں
اس ککھاّں تھی ہولے آں
آپس میں جوڑ پیدا کرنا خاصا مشکل کام ہے لیکن یہ کام کیے بغیر چارہ نہیں ۔۔۔
اوخا کم آ ، پر راشد
لوکاں کی آپس وچ جوڑ
ہونے سے پَہلیاں لیتری نَل کُل گراں نیں کم
سکّے پہراو نا کم وی ہُن کرنا کوئی وی ناء
خوابوں کے ساتھ شاعروں کی دل بستگی پرانی ہے، وہ شاعر ہی کیا جو خواب نہ دیکھتا ہو۔ خواب دیکھنا اور دکھانا اور پھِر مقدور بھر اُن کی تعبیر میں کوشاں رہنا، شاعر ہی کا منصبِ خاص ہے۔
عشقے کَیہ کَیہ دسّے خاب
دُکھڑے کَیہ کَیہ چَہلّے خاب
ریت نیں رسّے بٹّے خاب
ہوئی تہ ٹوٹے ٹوٹے خاب
خواب کی ردیف میں کہی گئی یہ منفرد غزل، خوابوں کے گوناگوں رنگوں کا ہمہ پہلو اظہار ہے۔
ایک اور شعر دیکھئے ۔۔۔
جِہڑے ہمیشہ خاب سے رکھّے اکھیں وچ
اُنہاں نیں ژے ہن پُڑنے ٹوٹے، اکھیں وچ
لیکن شاعر کی مستقل مزاجی، ثابت قدمی اور اپنے کام سے وفا نبھانے کا چلن ملاحظہ فرمائیے کہ ان تمام دشواریوں کے باوصف وہ خواب دیکھنے سے خود کو روک نہیں پایا اور مسلسل اپنے خوابوں کے گیت گانے میں سر مست رہا۔۔۔
کُل حیاتی خاب گرائیں وچ گُزری
اج وی کَہلیاں ہسَنے گانے پِھرنے آں
ہمارے گاؤں، دیہات بڑی تیزی سے شہروں ڈھل رہے ہیں اور شہروں کی توسیع کے لیے اُن کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹایا جا رہا ہے۔
مُڑی گراں گچھی تے بَہوں پچھتایا یاں
باغ سے اُجڑے ، کَہر کَہر لگّا جندرا سا
شاعر ایک قدم اور آگے بڑھ کر کہہ رہا ہے کہ اگر ہم اپنے گاؤں اُجاڑ کر شہروں میں نہ آ بستے تو یہاں زندگی اتنی بھی تلخ نہ ہوتی۔
گراں جے اَس اُجاڑی تے نہ اشنے
حیاتی شہر وچ آزار ویہہ آ ؟
اور پھِر ایک درد بھری لمبی پُکار ۔۔۔۔ !
تو مَھڑا دُکھ او شخصا ! کَیہ جانیں
می آ اُجڑے ہوئے گراں نا دُکھ
دوسری جانب گاؤں کی زمین اور اس کی مٹی کیا آواز لگا رہی ہے ؟
ڈوغے ، ہوتر تے سارے بکّی گئے
رکھاّں، نکراں، بناں نا کیہ بنسی
ماضی کی اقدار اور پرانی محبتوں کے بارے میں کوئی سوال کرتا ہے تو شاعر ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہہ اُٹھتا ہے۔
کوئی ہلِساں نیں بارے وچ کدے پُچھنا ایسا پَہلیاں
گراں اس اپنے دسنے سِیاں، تُساں کی یاد تے ہوسی
شاعر اس دلدوز سانحے پر بھی سرگراں اور حیران ہے کہ ماضی کے سُنہری دور کی دوستیاں بھی اب رفتہ رفتہ عداوتوں اور دشمن داریوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔ شاعر بڑے دُکھ سے کہتا ہے ۔۔۔
جِس پاسے سی تِیر آئے
اُس پاسے تَہ دُشمن نیئے
اور یہ دُکھ دیکھتے ہی دیکھتے گہری تشویش میں بدلنے لگتا ہے، جب صورتِ حال یہاں تک آ جاتی ہے کہ ظاہری دُشمن تو سامنے ہیں، اُن کا تو کسی طور مقابلہ یا سامنا ممکن ہے لیکِن ۔۔۔
دُشمن چالاں چلنے، منیا
کہر وِچ جیہڑے چور اے سنگیو
اور آ گے چلیے ۔۔۔ !
دُشمن می گھیری کِہندا
سجّن دُورا دکھنے اے
ہمارے مضافات کو تہس نہس کرنے میں قبضہ مافیا کا بڑا عمل دخل ہے۔ شاعر ہمیں قبضہ مافیا کی کارستانیوں سے یوں آ گاہ کرتا ہے ۔۔۔
آڑا ، بنّا ، ہتھّا جُلنا
فدریں ، سنّا ، ہتھّا جُلنا
نکّر ، کھیتر قبضہ ہوئی گا
راشد ڈنُہ ، ہتھّا جُلنا
قبضہ مافیا کے ہمراہ ماحول دُشمن عناصر بھی اس اجتماعی بربادی میں اپنا منفی کردار یوں ادا کر رہے ہیں۔۔۔
اتنے آرے چلنے اے
بُوٹے تھر تھر کمبنے اے
بُوٹے دَین تُہائی
پہنّے یوء کوئی آرا
دوسری جانب عاقبت نااندیش طبقے، کیسی سفّاکیت اور بے رحمی کے ساتھ خود کو طفل تسلیاں دینے میں مگن ہیں۔
بُوٹے کپّن ہوئے تہ کیہ آ
سڑکاں بنسن، جشن مناؤ
اندھیرے، اُجالے کی ازلی کشمکش کا بیان، راشد عباسی کے من پسند اور مرغوب ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ آغازِ کتاب سے قبل “سخنم تمام سوزے” کے عنوان سے ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیے۔
ایہہ دیے، ایہہ چن، ایہہ تارے
ایہہ لفظ مھڑے لوآرے
ایہہ پھُل اے، ایہہ خشبو اے
ایہہ انہیارے وچ لوء اے
راشد، رات کے اندھیروں کو شکست دینے کے لیے دِیا روشن رکھے ہوئے ہیں اور اُجالے کو اپنا دوست اور ہمراز سمجھتے ہیں ۔۔۔
اَس یاں سنگی لوئی نیں
تاں ژے راشد خاری رات
اور پِھر پورے یقین اور شرحِ صدر کے ساتھ جیسے پیش گوئی کے انداز میں یہ کہتے ہیں۔۔۔
کل تاریخ نیں وچ پڑھسو
کِس نیں کولا ہاری رات
مذہبی انتہا پسندی اور معاشی ناہمواری پر بالترتیب ایک ہی غزل کے دو اشعار دیکھیے اور شاعر کی زبان و بیان پر دسترس ملاحظہ فرمائیے ۔۔۔
رحم، کرم نی صفت نا مالک ، کُل مخلوق نا رب سُوہنا
اُس مالک نا نآں کِہنی تے دِلاں نیں مندر ٹاہنے اے
پُہکھے پہانیں لوکاں ای دینے اُووَئے بھاشن صبرے نیں
جنہاں نیں کٗتّے وی اے سی وچ رہنے، برگر کھانے اے
معاشرے میں پھیلی عیب جٗوئی اور بدخواہی کو کیسی مہارت سے ٹھیٹھ پہاڑی الفاظ کے نہایت فن کارانہ استعمال سے اُجاگر کیا گیا ہے ۔۔۔
سو سو گُن وی بندیاں اندر دنیا کدے نہ دکھّے
ہِک وی عیب جے نظری آیا، چھج وچ بائی تہ چھڑیا
اسی طرح لوگوں میں پوشیدہ تکبّر کی نشان دہی کرتے ہوئے ایک عمومی غرور و تفاخر میں مبتلا اور اُس کا اعلانیہ یا پوشیدہ اظہار کرنے والوں کی یوں خبر لی گئی ہے ۔۔۔
عِجز نا ٹہول مارنا جیہڑا
اُس نیں لہجے نیں وچ رعونت ای
خُدا جسرے بنی بیٹھی خُدائی
تُہائی، سوہنیا ربّا ! تُہائی
اپنی سادہ دلی کو کس سادگی اور سہولت کے ساتھ عیاں کیا گیا ہے ۔۔۔
گن٘وی تہ آپوں سجّن لبھنے
میں ہوشے وچ، خالی لوڑاں
زندگی اور موت کے دشوار موضوع کا ذکر کرتے ہوئے اسی سادگی اور آسانی سے کیسی پُرکاری کو اختیار کیا ہے ۔۔۔
موتُو نیں نل کُہلی کُہلی تے
جِینے ناں امکان بنایا
کہا جاتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ تجربے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ شاعر کیسی شعری حُسن کاری کا مُظاہرہ کرتے ہوئے یہ اہم اپنے قاری یا سامع کے ذہن نشین کرتا ہے ۔۔۔
کھوہرے کائژلے ہونے گیسن
پتھّر ٹھُڈے کھاسن جسلے
دنیا سے بے غرضی اور قناعت کا رنگ دیکھنے کے لیے یہ دو پُر اثر اشعار ملاحظہ ہوں ۔۔۔
دنیا کولا جان چھُڑائی
اس ہوئے آں مالو مال
کِسے چلہاری اُپرا پانی پی کِہنساں
بائی جیوے وچ پہُجے دانے پھرنے آں
گریہ پر یہ دو اشعار بغیر کسی تبصرے کے پیش ہیں ۔۔۔
سارے لفظ اضافی اے اس ذِکرے وچ
اتھرواں نال وی تسبی رولی دکھّیں آ
دل وچ اگ ہجراں نی
اکھ وچ غم نا پانی
سہلِ ممتنع کے رنگ میں سیاسی پس منظر کے دو اشعار ۔۔۔
دین وطن نے نائیں پُر
لُٹنے روز بچارے لوک
ہر فرعون کی لگنا آ
اس نے نال اے سارے لوک
چھوٹی بحروں میں راشد عباسی نے بہت عمدہ اور تِیکھے اشعار کہے ہیں، ان میں سہل ممتنع کا رنگ بھی چوکھا ہے، بظاہر سادہ انداز میں بڑی گہری باتیں بے حد سہولت کے ساتھ کہہ ڈالی ہیں۔ چلتے چلتے کچھ اشعار آپ کو ضرور سُنانا چاہوں گا ۔۔۔
چہُوٹھا جگ سنسار آ
سچّا رب دلدار آ
بُوٹیاں کی نانہہ کپیا
بُوٹیاں نل می پیار آ
ٹہکّی چڑھ کردار آ لی
اگیّں فر اُترائی ای
خود جے مسلا نیں
مسلا کوئی وی ناء
داں نی غلطی سی
منیا کوئی وی ناء
اب میں آپ کو مضمون کے ابتدائی حصّے کی طرف لے جانا چاہوں گا، جہاں راشد عباسی کی پہاڑی شاعری کے حوالے سے مزید امکان کے در کھُلنے کی بات کی گئی تھی۔ یقیناً یہاں پہنچ کر آپ میرے ہم نوا ہوں گے کہ میں نے یہ بات کہتے ہوئے کسی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا بلکہ جو کچھ کہا ہے سوچ سمجھ کر کہا ہے اور اس کا ثبوت یہ تحریر ہے، جس میں راشد عباسی کی پہاڑی شاعری کے قوسِ قزح بلکہ “رنتن” کی مانند بکھرے ہوئے زندگی کے رنگوں کو یکجا کرنے کی ایک کوشش سی کی گئی ہے۔
مضمون کا اختتام آپ کو اُردو کا ایک جانا پہچانا شعر یاد دلا کر اور اس کے جواب میں راشد عباسی کا ایک اور شعر سُنا کر آپ سے اجازت چاہوں گا۔
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چُھٹّی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا
اور اب راشد عباسی کا شعر بھی ملاحظہ فرمائیے ۔۔۔
اَساں نی چھُٹّی نیئی ہوئی
پُوری ٹلّی ہوئی گی سی
محمد آصف مرزا ۔۔ مری