ایرانی خطرات کے پیش نظر ٹرمپ کا خفیہ طیارہ تبدیل کرنے کا اعتراف

طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ ان کی اپنی خواہش نہیں تھا بلکہ سیکرٹ سروس کی ہدایت پر کیا گیا۔

August 12, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ ترکیہ سے برطانیہ روانگی کے دوران ان کا طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا تھا، جس کا فیصلہ امریکی سیکرٹ سروس کی ہدایت پر کیا گیا۔

ٹرمپ کے مطابق ترکیہ میں نیٹو اجلاس میں شرکت کے بعد سفر کے دوران سکیورٹی خدشات موجود تھے۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ممکنہ ایرانی حملے یا قاتلانہ کارروائی کے خدشے کے باعث صدر کو ایک طیارے سے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ ابتدا میں انقرہ سے روانگی کے لیے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، تاہم بعد میں انہیں خفیہ طریقے سے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے فوجی طیارے C-32A میں منتقل کردیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد صدر کی نقل و حرکت کو زیادہ سے زیادہ خفیہ رکھنا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ ان کی اپنی خواہش نہیں تھا بلکہ سیکرٹ سروس کی ہدایت پر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر کی سکیورٹی پر مامور اداروں اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق جس طیارے میں انہوں نے بعد میں سفر کیا، وہ بظاہر ایئر فورس ون کے مقابلے میں زیادہ خطرے میں ہوسکتا تھا، کیونکہ مخالفین کے لیے صدر کی موجودگی کا اندازہ لگانا ممکن ہوسکتا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ممکنہ خطرے کی تمام تفصیلات معلوم نہیں تھیں، تاہم انہیں مختلف نوعیت کی دھمکیاں مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔

یہ انکشاف امریکی میڈیا میں ٹرمپ کے خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہوا۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل یہ تاثر دیا گیا تھا کہ امریکی صدر ترکیہ سے برطانیہ معمول کے مطابق ایئر فورس ون کے ذریعے روانہ ہوئے تھے۔

ٹرمپ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک نئے طیارے کے ذریعے پہنچے تھے، جس کے بعد طیارے کی سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات بھی زیر بحث آئے۔